نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی پروپوزل ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آیا، تاہم صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے نئے صوبے قائم ہونے چاہییں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت تو ہر جگہ یہ کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی رکاوٹیں ڈالتی ہے، لیکن عوام کی رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، پارلیمانی امور اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو نے واضح کیاکہ اگر پیپلز پارٹی کے اعتراضات دور نہ کیے گئے تو پارٹی کا کوئی بھی رکن قانون سازی میں ووٹ نہیں دے گا، تاہم قومی ایشوز پر کوئی پیش رفت ہوئی تو پیپلز پارٹی تعاون کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع تھے، ہمارے تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کے جائز اعتراضات دور کرنے کے لیے ن لیگ نے کوئی کوشش نہیں کی، کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔

عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر قیدی کو صحت اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت کے اعتراضات انہوں نے نہیں دیکھے، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے بعض اہم رہنماؤں اور وزرا نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے بھی قیدی کو علاج اور صحت کی سہولت دینا حق قرار دیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سمیت ہر قیدی کو علاج اور طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ صحت کے معاملے میں قیدی کے بنیادی حق کو تسلیم کرنا خوش آئند ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا حکومت خود علاج یا طبی معائنے کا انتظام کرتی، سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے حکومت کو خود طبی سہولت فراہم کرنی چاہیے تھی۔

اپوزیشن کا پارلیمانی کردار

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمانی عمل سے دور رہنا بڑی سیاسی کامیابی ہوسکتی ہے، جبکہ اپوزیشن کے پارلیمانی بائیکاٹ کے فیصلے کا کامیاب ہونا اہم پیشرفت ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی اور چاہتی ہے کہ پارلیمان مکمل طور پر فعال ہو۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ اپوزیشن کی کچھ جماعتوں نے پارلیمانی امور سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، تاہم پارلیمان کو فعال کرنے کے لیے کمیٹیوں کو فعال کرنا ضروری ہے۔ چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کمیٹیوں کا حصہ بنے اور خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں قائمہ کمیٹیوں میں واپس جائیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم سب پر فرض ہے کہ الیکشن کے عمل کو بہتر بنائیں۔

نئے صوبوں کے قیام پر مؤقف

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے نئے صوبے قائم ہونے چاہییں۔ جنوبی پنجاب پر پارلیمان کے ذریعے پہلے ہی اتفاق رائے موجود ہے اور پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب سے متعلق پارلیمانی اتفاق رائے کے ساتھ کھڑی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ڈیل کا تاثر غلط ہے، بیرسٹر گوہر

انہوں نے کہاکہ پنجاب کے خلاف کسی سازش کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ہر صوبے کا اپنا مؤقف ہے اور سندھ کا مؤقف بھی سب کے سامنے ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جہاں اتفاق رائے موجود نہیں، وہاں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ عوامی رائے اور اتفاق رائے سے فیصلے کیے جانے چاہئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp