پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، عمران خان کی بہنوں اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اختیار کی گئی محاذ آرائی کی سیاست، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاکس، دباؤ اور بیانیے کی حکمت عملی آج پوری طرح ناکام ثابت ہوگئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ریلیف نہ اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے ہو کر ملا، نہ میڈیا ٹاکس سے اور نہ ہی سیاسی دباؤ کے نتیجے میں، انہیں ریلیف سپریم کورٹ سے ملا۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے میری کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ڈیل کا تاثر غلط ہے، بیرسٹر گوہر
دلچسپ امر یہ ہے کہ اب خود یہی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر کارکن نہیں جائیں گے اور ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک بھی نہیں ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یعنی جس طریقے سے پہلے ریلیف روکا جا رہا تھا، آخرکار اسی طریقہ کار کو ختم کرنا پڑا۔ اگر یہ سمجھ پہلے آ جاتی تو شاید عمران خان کو ریلیف کے لیے اتنا انتظار ہی نہ کرنا پڑتا۔
’ریلیف میں تاخیر کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے پہلے حکمت عملی کا حساب دینا ہوگا‘
ریلیف میں تاخیر کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے سے پہلے پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی کا حساب بھی دینا چاہیے۔ اب اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کو واقعی سیاسی مسئلہ نہیں بنانا ہے تو اس کی پوری ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو اپنے یوٹیوبرز، سوشل میڈیا پراپیگنڈا نیٹ ورکس اور بیرون ملک بیٹھے ان افراد کو خود کنٹرول کرنا ہوگا جو ہر معاملے میں سازشی تھیوریاں گھڑ کر ہنگامہ کھڑا کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر دوبارہ میلا نہیں لگنا چاہیے، نہ ہر ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک ہونی چاہیے اور نہ ہی صحت کے معاملے پر سیاست ہونی چاہیے۔
عدالت میں جو لوگ موجود تھے، انہوں نے خود یقین دہانی کرائی ہے، اب انہیں یہ یقین دہانی عملی طور پر بھی ثابت کرنی ہوگی۔ صرف عدالت میں کمٹمنٹ کافی نہیں، اصل امتحان اب سوشل میڈیا پر ہوگا۔
’سہیل آفریدی احتجاج اور دھرنوں کے بجائے صوبے پر توجہ دیں‘
تجزیہ کاروں کے مطابق سہیل آفریدی کو اب 27 ستمبر احتجاج کی کال جیسے ڈرامے بند کر دینے چاہییں، کیونکہ اب اس کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ سہیل آفریدی کے پاس بہترین موقع ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر سیاست کرنے کے بجائے اپنی حکومت اور اپنے صوبے پر توجہ دیں۔
خیبر پختونخوا کے عوام کو احتجاج، دھرنوں اور تاریخیں دینے سے زیادہ اچھی گورننس چاہیے۔ اب اگر صوبے میں ڈیلیور نہیں ہوتا تو ناکامی کا الزام بانی پی ٹی آئی کی صحت، وفاق یا کسی اور پر ڈالنے کا جواز بھی نہیں بچے گا۔
اب اصل امتحان یہ ہے کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت سیاست کرے گی یا کارکردگی دکھائے گی۔
اپوزیشن کے لیے بھی اصل امتحان شروع
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، محمود خان اچکزئی اور پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کے لیے بھی اب اصل امتحان شروع ہوگیا ہے۔ عمران خان کی صحت، علاج اور اسپتال وزٹ کا معاملہ عدالت کے ذریعے حل ہوگیا تو اب عمران خان کے نام پر ہر وقت محاذ آرائی کا جواز بھی ختم ہونا چاہیے۔
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا اصل کام قانون سازی پر نظر رکھنا، حکومت سے سوال کرنا، عوام کے مسائل اٹھانا اور اپنی سیاسی جدوجہد پارلیمانی فورمز پر کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ رہنما سڑکوں اور سوشل میڈیا کی محاذ آرائی سے پیچھے ہٹ کر پارلیمنٹ میں اپنا اصل کردار ادا کرتے ہیں یا عمران خان کے نام کو سیاسی سرگرمیوں کا مستقل بہانہ بنائے رکھتے ہیں۔
ریلیف کو سیاسی فتح قرار دینا بے معنی ہوگا
تحریک انصاف، اس کے رہنما اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اس ریلیف کو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری، کسی دباؤ یا کسی سیاسی شکست کے نتیجے کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ آخر دباؤ تھا کہاں؟ احتجاج ناکام، اڈیالہ کے باہر کارکن موجود نہیں، پارٹی اندرونی انتشار کا شکار اور عمران خان کو باہر لانے کی تمام سیاسی حکمت عملیاں بے نتیجہ رہیں۔ پھر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کس دباؤ میں آتی؟
یہ سپریم کورٹ کی طرف سے صحت کے معاملے پر دیا گیا ایک قانونی ریلیف ہے، اسے سیاسی فتح قرار دینا بے معنی ہے۔ اس پر فتح کے شادیانے بجانا بالکل ایسا ہوگا جیسے بےگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نہ کوئی سیاسی معاہدہ ہوا ہے، نہ حکومت جھکی ہے، نہ کوئی دباؤ کارگر ہوا ہے۔ ریلیف ملا ہے، اسے ریلیف ہی رہنے دیں؛ اب سب اپنے اپنے کام دھندے پر توجہ دیں، اس میں کوئی خفیہ فتح تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔













