اسمارٹ چشمے نابینا افراد کی زندگیاں بدل رہے ہیں لیکن شرپسند عناصر یہ سہولت چھیننے کے درپے

بدھ 19 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ میں مکمل طور پر نابینا ایک شخص کا کہنا ہے کہ اسمارٹ چشموں نے اس کی روزمرہ زندگی کو یکسر بدل دیا ہے اور اسے مختلف کام خود انجام دینے میں نمایاں مدد مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی کے مطابق سفوک کے علاقے ہیورہل سے تعلق رکھنے والے 48 سالہ کیون ریمزی مکمل طور پر نابینا ہیں اور رہنمائی کے لیے ایک گائیڈ ڈاگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ بصارت سے محروم افراد کی مدد کرنے والی فلاحی تنظیم ’سفوک سائٹ‘ کے رضاکار بھی ہیں۔

اسی تنظیم نے حال ہی میں انہیں میٹا کے اسمارٹ چشموں کا عملی مظاہرہ کرایا۔ ان چشموں میں ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو ریستوران کے مینو سمیت مختلف تحریری مواد پڑھ سکتی ہے اور پیدل سفر کے راستے کی نگرانی میں بھی مدد دیتی ہے۔

مظاہرے کے بعد کیون ریمزی نے خود بھی ایک جوڑا خرید لیا اور ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی نے ان کی زندگی مکمل طور پر بدل دی ہے۔

کیون ریمزی۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو سفوک سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر وہ کسی ریستوران میں جائیں تو چشمے انہیں مینو پڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اسی طرح دکان میں کسی چیز کو اٹھا کر وہ چشموں سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے جس کے جواب میں ٹیکنالوجی انہیں اس کے بارے میں بتا دیتی ہے۔

ریمزی کے مطابق یہ چشمے کھانے پینے کی اشیا پر درج استعمال کی آخری تاریخ پڑھنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

راستہ تلاش کرنے میں بھی مدد

اپنے گائیڈ ڈاگ کے ساتھ باہر نکلتے وقت ریمزی ’وائس وسٹا‘ نامی ایپ استعمال کرتے ہیں جو ان کے سفر کی سمت اور راستے کو ٹریک کرتی ہے اور اسمارٹ چشموں کی ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک ہے۔

مزید پڑھیے: مستقبل میں اسمارٹ گلاسز کے بغیر زندگی کا تصور مشکل ہوگا،مارک زکربرگ

ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ راستہ بھٹک جائیں تو چشموں سے پوچھ سکتے ہیں کہ ان کے آس پاس کیا موجود ہے اور ٹیکنالوجی انہیں اس بارے میں بتا دیتی ہے۔

ریمزی نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت انہیں بار بار اپنا موبائل فون جیب سے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے فون بھی محفوظ رہتا ہے۔

ان کے مطابق اسمارٹ چشموں کی قیمت 200 سے 400 پاؤنڈ کے درمیان ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ رقم خرچ کرنا فائدہ مند ثابت ہوا ہے اور یہ ٹیکنالوجی بصارت سے محروم افراد کی زندگی میں بنیادی تبدیلی لاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی روزمرہ زندگی میں بہت مدد کرتا ہے۔

ریمزی گزشتہ سال ایسٹ اینگلیئن بیئر اینڈ سائڈر فیسٹیول میں کام کرنے والے پہلے نابینا شخص بھی بنے تھے۔

اسمارٹ چشموں کے غلط استعمال پر خدشات

تاہم کیون ریمزی اسمارٹ چشموں کے حوالے سے موجود خدشات سے بھی آگاہ ہیں۔ ان میں ایک تشویش یہ ہے کہ بعض افراد ان چشموں کے ذریعے لوگوں کی رضامندی اور علم کے بغیر ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا کا اسمارٹ چشموں پر تشویش کا اظہار، نئے رازداری قوانین بنانے پر زور

ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں بعض مردوں نے یہ چشمے پہن کر خواتین سے ان کی اجازت کے بغیر گفتگو کی ویڈیوز بنائیں اور ان سے غیر رسمی سوالات یا اظہارِ پسندیدگی سے متعلق جملے کہے اور بعد میں یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کردیں۔

اسمارٹ چشموں کے اسی ممکنہ غلط استعمال کے باعث برطانیہ کی بعض عدالتوں نے اپنی عمارتوں کے اندر ان کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ متعدد ریستورانوں اور تھیٹرز نے بھی اسمارٹ چشموں کے استعمال کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریمزی کو خدشہ ہے کہ اگر مزید مقامات پر اسمارٹ چشموں کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تو اس کا منفی اثر ان بصارت سے محروم افراد پر پڑسکتا ہے جو انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے پبز اور ریستورانوں میں بھی ان پر پابندی لگا دی تو یہ ہمارے لیے کچھ مشکل پیدا کردے گا۔

یہ بھی پڑھیے: میٹا کے کیمرا نصب اسمارٹ چشموں پر برطانیہ میں رازداری کے خدشات، کئی مقامات پر پابندی

میٹا اس سے قبل بی بی سی کو بتا چکی ہے کہ لوگوں کو کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp