کابل میں اسکول دھماکا، طالبان نے پرنسپل اور استاد سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کابل کے مغربی علاقے میں اسکول میں ہونے والے دھماکے کے بعد طالبان نے اسکول کے پرنسپل، ایک استاد اور 2 طالب علموں کے والد سمیت 4 افراد کو حراست میں لے لیا۔

مزید پڑھیں:تاجکستان میں گرفتاری اور کابل دھماکے، افغانستان پھر دہشتگردی کا گڑھ بن رہا ہے؟

مقامی ذرائع کے مطابق طالبان نے 18 اگست کو شَمِ ہدایت اسکول کے پرنسپل باقر صمیم، ایک استاد اور 2 طلبا کے والد کو حراست میں لیا، جنہیں کابل کے 18ویں پولیس ڈسٹرکٹ منتقل کیا گیا۔ طالبان انتظامیہ نے تاحال گرفتاریوں کی وجہ یا ممکنہ محرکات کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

دھماکا 17 اگست کو کابل کے مغربی علاقے مہدیہ ٹاؤن شپ میں واقع نجی شَمِ ہدایت اسکول میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں قریباً 50 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر اسکول کے بچے شامل تھے۔ ایک اسپتال سے حاصل فہرست کے مطابق کم از کم 19 زخمیوں میں 14 لڑکیاں شامل ہیں، جن کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ابتدائی طور پر دھماکے میں داعش یا اس سے وابستہ گروہوں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی معلومات میں بتایا گیا کہ اسکول میں دستی بم پھینکا گیا، جس سے قریباً 25 طلبا زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں:خضداراسکول بس دھماکا: ایک باپ جس کی دنیا ہی لٹ گئی

دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp