وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب پروگرام کے کارکنوں کو ہر ماہ 5 تاریخ تک تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے اور تاخیر کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کے تمام شہروں میں صفائی کے آپریشنز کی سخت نگرانی کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو صفائی کے نظام میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کرنے کی ہدایت کی۔ پنجاب حکومت پہلے بھی ستھرا پنجاب کے کارکنوں کی تنخواہیں ہر ماہ 5 تاریخ تک ادا کرنے اور ادائیگیوں کی ماہانہ رپورٹس طلب کرنے کی ہدایات جاری کرچکی ہے۔
وزیراعلی مریم نوازشریف نے ستھرا پنجاب ورکرز کو ہر ماہ 5 تاریخ سے پہلے تنخواہوں کی ادائیگی، تاخیر پر فوری قانونی کارروائی اور ہر شہر میں صفائی آپریشن کی سخت مانیٹرنگ کا حکم دیا۔ ایم ڈی واسا کو روزانہ 2 گھنٹے فیلڈ میں، ٹی ایم اوز و ایف ایم اوز کو روزانہ کم از کم 5 یوسیز کے دورے، ہر… pic.twitter.com/7C3pYR4sEP
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) August 20, 2026
مریم نواز نے ہدایت کی کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ مزید مؤثر بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے ایم ڈی واسا کو روزانہ دو گھنٹے فیلڈ میں گزارنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کے کام کا خود موقع پر جائزہ لیا جائے۔ ٹی ایم اوز اور ایف ایم اوز کو روزانہ کم از کم پانچ یونین کونسلز کا دورہ کرنے اور صفائی آپریشنز کی نگرانی کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
انہوں نے ہر ڈویژن میں اینٹی لٹرنگ اسکواڈز کو فوری طور پر فعال کرنے کی ہدایت کی تاکہ سڑکوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے کے رجحان کی روک تھام کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں:ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن
مریم نواز نے خالی پلاٹوں، ویسٹ انکلوژرز اور نکاسی آب کے نظام کی مؤثر صفائی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی کا نظام صرف مرکزی شاہراہوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ گلیوں، محلوں اور دیگر شہری علاقوں میں بھی صفائی کے یکساں معیار کو یقینی بنایا جائے۔
ستھرا پنجاب پروگرام صوبے کے تمام 36 اضلاع میں صفائی اور کچرے کے انتظام کا مربوط نظام ہے، جس میں گھر گھر کچرا جمع کرنے، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید آلات کے استعمال پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ صفائی کے امور میں غفلت یا ناقص کارکردگی کی فوری نشاندہی کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔














