اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، جہاں افغان طالبان کی فعال حمایت کے ساتھ کالعدم تحریک طالبان(ٹی ٹی پی) کے سرحد پار سے پاکستان پر بڑھتے ہوئے حملے پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے کوآرڈینیٹر کولن اسمتھ نے اپنے ایک انٹرویو میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ افغان طالبان وہاں مختلف دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کے ضلع نوسے میں لڑائی پانچویں روز بھی جاری، مواصلاتی نظام مکمل بند
انہوں نے بالخصوص نشاندہی کی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی جانب سے نہ صرف محفوظ ٹھکانے میسر ہیں بلکہ انہیں عملی اور فعال تعاون بھی حاصل ہو رہا ہے، جس کی بدولت وہ پاکستان کے خلاف اپنی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان کی گہری تشویش
کولن اسمتھ کے مطابق افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا اور وہاں دہشتگرد تنصیبات کی موجودگی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متعدد ارکان کو گہری تشویش ہے۔
عالمی برادری کا ماننا ہے کہ کابل میں موجود عبوری حکومت اپنے ان بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے جن میں افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سال 2021 میں افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کی مغربی سرحد پر دشتگردی کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں:طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات
پاکستان بارہا عالمی فورمز اور کابل انتظامیہ کے سامنے ثبوت پیش کر چکا ہے کہ ‘ٹی ٹی پی’ کے شدت پسند افغان سرزمین کو بطور بیس کیمپ استعمال کر کے پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اس تازہ ترین مؤقف نے پاکستان کے دیرینہ بیانیے کی ایک بار پھر عالمی سطح پر توثیق کر دی ہے۔














