کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ عناصر کی تحویل سے بازیاب ہونے والے 8 پولیس اہلکاروں نے میڈیا کے سامنے اپنے اغوا، یرغمال بنائے جانے اور تشدد سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں جس کے بعد احتجاج کے پرامن ہونے کے دعوے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راستے بند ہیں تو راشن کہاں سے آ رہا ہے؟ کالعدم ایکشن کمیٹی کے دعوے پر سوالات
بازیاب اہلکاروں کے مطابق انہیں اغوا کرکے یرغمال بنایا گیا اور اس دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اغوا کار جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس تھے جبکہ ان سے زبردستی پاکستان اور پاک فوج مخالف نعرے بھی لگوانے کی کوشش کی گئی۔
اگر کسی احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کو اغوا یا یرغمال بنایا جائے، ان پر تشدد کیا جائے یا مسلح افراد کی جانب سے دھمکیاں دی جائیں تو ایسے واقعات کو محض ’پرامن احتجاج‘ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم اغوا، یرغمال بنانا، تشدد اور مسلح دھمکی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔
مزید پڑھیے: بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کی سیاست؟ سردار امان کے تعلیم سے متعلق مطالبے پر سوالات
یہ واقعات ان دعوؤں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ احتجاجی سرگرمیاں صرف پُرامن دھرنے تک محدود تھیں۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مبینہ حملوں اور دیگر پرتشدد واقعات کے ساتھ عوامی اور طبی اداروں کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
8 پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے امن و امان کی بحالی، شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی میڈیا اور بین الاقوامی حلقوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی فریق کے دعوے کو بلا تحقیق قبول کرنے کے بجائے تمام واقعات کا جائزہ لیں۔ اگر کسی تحریک کی جانب سے خود کو پرامن قرار دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ تشدد، اغوا، یرغمال بنانے اور قانون شکنی کے الزامات کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
پرامن احتجاج کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن کسی بھی سیاسی یا عوامی تحریک کے نام پر تشدد، اغوا اور مسلح کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔














