کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومت پر راستے بند کرکے خوراک اور ادویات کی ترسیل روکنے کے الزامات کے ساتھ ساتھ راشن کی تقسیم کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد اس کے بیانیے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کی پرتشدد کارروائیاں جاری، حملے میں ایف سی اہلکار زخمی
ایک طرف کمیٹی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے راستے بند کرکے خوراک اور ضروری اشیا کی ترسیل روک رکھی ہے جبکہ دوسری جانب اسی کمیٹی سے وابستہ افراد راشن تقسیم کرتے ہوئے اس کی تشہیر بھی کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ اگر واقعی راستے مکمل طور پر بند ہیں تو دھرنے کے شرکا کے لیے راشن اور دیگر ضروری سامان کہاں سے پہنچ رہا ہے؟
کالعدم ایکشن کمیٹی کا دھرنا تقریباً 3 ماہ سے جاری رہنے کے باوجود شرکا کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی جاری رہنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے مکمل ناکہ بندی ہوتی تو اتنے طویل عرصے تک دھرنے کے شرکا کے لیے ضروری سامان کی مسلسل فراہمی ممکن نہ ہوتی۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف کے مطابق عوام کے لیے خوراک اور بنیادی ضروریات کی فراہمی جاری ہے اور راستوں کی مکمل ناکہ بندی سے متعلق دعوے درست نہیں۔
اس صورتحال میں عوام اور بیرون ملک موجود کشمیریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو بغیر تصدیق قبول کرنے کے بجائے زمینی حقائق اور قابلِ اعتماد شواہد کو سامنے رکھیں۔
حکومت مخالف حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کا بیانیہ خطے میں بدامنی اور حکومت کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہا ہے۔ تاہم ان الزامات اور جوابی دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔
مزید پڑھیں: ایکشن کمیٹی دہشتگردی پر اتر آئی، آزاد کشمیر میں قیام امن کے لیے حکومت کی ہرممکن مدد کریں گے، وفاقی حکومت
راشن کی تقسیم سے متعلق سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز نے بہرحال اس بنیادی سوال کو نمایاں کردیا ہے کہ اگر تمام راستے اور رسد کے ذرائع مکمل طور پر بند ہیں تو دھرنے کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کس ذریعے سے جاری ہے؟














