مصباح ارشد کو ملک کی چوتھی مس یونیورس پاکستان منتخب کرلیا گیا، وہ مس یونیورس کے عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی چوتھی پاکستانی ہوں گی۔
مصباح ارشد کی کامیابی کا اعلان فلپائن میں منعقدہ تقریب کے دوران کیا گیا، جہاں مس یونیورس پاکستان کے فرنچائز مالک جوش یوگن نے انہیں اعزاز کی پٹی پہنائی جبکہ سابق مس یونیورس پاکستان روما ریاض نے انہیں تاج پہنایا۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس پاکستان روما ریاض کو اپنی جانشین کے لیے ’اچھے دل والی لڑکی‘ کی تلاش
مصباح ارشد کی کامیابی کا فیصلہ آخری سوال کے بعد کیا گیا۔ فلپائن کے موسیقار اور اداکار بیلی مے نے ان سے پوچھا کہ اگر انہیں اپنی 10 سالہ اور 80 سالہ عمر والی شخصیت کے ساتھ ایک کمرے میں بٹھایا جائے تو ان میں سے کون ان سے زیادہ مشکل سوال کرے گی۔
View this post on Instagram
مصباح ارشد نے جواب دیا کہ ان کی 10 سالہ شخصیت زیادہ مشکل سوال کرے گی، کیونکہ وہ ان سے پوچھے گی کہ زندگی آخر کیسی گزری۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کم عمر شخصیت کو بتائیں گی کہ زندگی میں کئی مواقع پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اصل مقصد ہر بار دوبارہ اٹھ کھڑے ہونا ہے۔
انہوں نے زندگی کو ایک خوبصورت چکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندگی کو صرف قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے بھرپور انداز میں جینا چاہیے، کیونکہ آگ جتنی تیز ہوتی ہے، سونا اتنا ہی خالص ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نور زرمینہ مس یونیورس پاکستان 2024 منتخب
مصباح ارشد نفسیات کی طالبہ ہیں اور انہیں عالمی حسن کے مقابلوں میں شرکت کا سابقہ تجربہ بھی حاصل ہے۔ وہ 2023 میں جاپان میں ہونے والے مس انٹرنیشنل مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں، جبکہ 2024 میں پولینڈ میں ہونے والے مس سپرا نیشنل مقابلے میں بھی شریک ہوئی تھیں۔
اب مصباح ارشد پورٹو ریکو روانہ ہوں گی، جہاں وہ مس یونیورس کے 75ویں عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
View this post on Instagram
اپنی کامیابی پر پیغام میں مصباح ارشد نے کہا کہ ناکامی اس بات کا تعین نہیں کرتی کہ انسان فاتح ہے یا نہیں، بلکہ اصل کامیابی امید کو زندہ رکھنے، مسلسل کوشش کرنے اور ہر قدم کے ساتھ خود کو بہتر بنانے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں تاج مل گیا ہے، تاہم ان کے لیے اصل انعام اس سفر میں شامل تجربات، سیکھے گئے اسباق اور اس دوران ملنے والے لوگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس پاکستان ’حلال سیاحت‘ کو فروغ دینے کی مہم کا حصہ بن گئیں
مصباح ارشد نے اپنی تاج پوشی کے لیے منتخب کیے گئے لباس کی علامتی اہمیت بھی بیان کی۔ انہوں نے ویتنامی ڈیزائنر نگوین تیئن ٹرین کا تیار کردہ سفید لباس زیب تن کیا، جس کے جسم پر کرسٹل جڑے ہوئے تھے۔
ان کے مطابق سفید رنگ امید اور اپنے خوابوں پر یقین برقرار رکھنے کی علامت تھا، جبکہ شاہی نیلے رنگ کے کرسٹل تعلیم اور علم کی نمائندگی کرتے تھے جو مسلسل سیکھنے کے عمل سے حاصل ہوتا ہے۔














