مس یونیورس پاکستان روما ریاض نے کہا ہے کہ وہ اپنی جانشین کے انتخاب میں ایسی امیدوار کو ترجیح دیں گی جس کا دل اچھا ہو، پاکستان سے محبت رکھتی ہو اور ملک کی ترقی کے لیے جذبہ رکھتی ہو۔
مس یونیورس پاکستان کا اعزاز حاصل کرنے والی تیسری پاکستانی روما ریاض ان دنوں اپنی جانشین کے انتخاب کے عمل میں شریک ہیں۔ وہ فلپائن جا رہی ہیں جہاں مس یونیورس پاکستان کا نیا فاتح منتخب کیا جائے گا، جو رواں سال پورٹو ریکو میں ہونے والے 75ویں مس یونیورس مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ نور زرمینہ مس یونیورس پاکستان 2024 منتخب
روما ریاض نے بتایا کہ مقابلے کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں میں سے 10 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ ان میں ایک امیدوار کا انتخاب مس یونیورس تنظیم نے، چھ کا انتخاب ججز کے پینل نے، جبکہ تین امیدوار عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ جب وہ خود فاتح قرار پائیں تو انہوں نے قومی ڈائریکٹر سے پوچھا کہ ان کا انتخاب کیوں کیا گیا۔ اس پر انہیں جواب ملا کہ کسی لڑکی کو خوبصورتی کے مقابلے کے آداب، لباس پہننے یا اونچی ایڑی کے جوتے پہننے کا طریقہ سکھایا جا سکتا ہے، لیکن اچھا دل نہیں سکھایا جا سکتا۔ ان کے مطابق حقیقی خوبصورتی اچھے کردار اور نرم دل میں ہوتی ہے۔
روما ریاض نے کہا کہ مس یونیورس مقابلے میں دنیا بھر سے آنے والی امیدواروں سے دوستی ان کے لیے سب سے قیمتی یادگار ثابت ہوئی۔ ان کے بقول یہ مقابلہ زندگی میں صرف ایک بار ملنے والا موقع ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی جانشین کو مشورہ دیں گی کہ مقابلے سے زیادہ دنیا بھر کی شریک امیدواروں سے تعلقات بنانے پر توجہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس پاکستان ’حلال سیاحت‘ کو فروغ دینے کی مہم کا حصہ بن گئیں
انہوں نے کہا کہ مس یونیورس پاکستان کا تاج دھات کی وجہ سے بھاری نہیں بلکہ اس کے ساتھ وابستہ ذمہ داری کی وجہ سے بہت وزنی محسوس ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز اور ذمہ داری تھی۔
View this post on Instagram
روما ریاض نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنے دور میں شدید تنقید اور آن لائن مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، خاص طور پر ان لوگوں کی جانب سے جنہوں نے انہیں “پاکستانی نہیں لگتیں” کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنقید دراصل رنگت کی بنیاد پر تعصب کی عکاس تھی، تاہم وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کرتی ہیں کہ وہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کی نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلپائن میں ایک اسکول کی بچی نے ان سے کہا تھا کہ تمام مس یونیورس امیدوار خوبصورت ہیں، لیکن وہ انہیں سب سے زیادہ خوبصورت اس لیے لگتی ہیں کیونکہ ان کی رنگت اس جیسی ہے۔ روما ریاض کے مطابق اس ایک جملے نے انہیں احساس دلایا کہ ان کا کردار صرف ایک مقابلے تک محدود نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں کے لیے امید اور اعتماد کی علامت بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مس یونیورس میں پاکستانی خواتین کی شرکت: حکومت کا موقف کیا ہے؟
روما ریاض کا کہنا تھا کہ خوبصورتی کے ایسے مقابلے پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تخلیقی صلاحیتیں، ثقافت، کھانے، ٹرک آرٹ، موسیقی اور فنون دنیا بھر میں زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔
View this post on Instagram
روما ریاض نے بتایا کہ تاج اور سیش سے ہٹ کر وہ ایک عام پاکستانی لڑکی ہیں، جنہیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، چرچ جانا، ورزش کرنا اور ماچا پینا پسند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مس یونیورس پاکستان بننے سے قبل وہ سیلز اینالیسز کے شعبے میں ملازمت کرتی تھیں، تاہم اب وہ اپنی موجودہ ذمہ داری کو زیادہ بامقصد اور باوقار سمجھتی ہیں۔














