ناسا کا سوئفٹ خلائی دوربین کو بچانے کا مشن ناکام ہوگیا، امریکی خلائی ادارے کے مطابق دوربین کو مدار میں مزید بلند کرنے کے لیے بھیجا گیا بغیر پائلٹ خلائی جہاز قابو میں نہ رہ سکا، جس کے باعث ریسکیو مشن ختم کرنا پڑا۔
سوئفٹ خلائی دوربین کائنات میں ہونے والے طاقتور ترین دھماکوں، بالخصوص گاما شعاعوں سے متعلق مظاہر کا مطالعہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ تاہم عمر رسیدہ دوربین اب تیزی سے اپنے مدار سے نیچے آ رہی ہے اور رواں سال کے آخر میں زمین کی جانب واپس آکر فضا میں جل کر تباہ ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے اپنی گرتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کے لیے ریسکیو مشن لانچ کردیا
دوربین کو بچانے کے لیے ناسا نے تقریباً 30 ملین ڈالر کا مشن شروع کیا تھا، جس کے تحت ایک روبوٹک خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ دوربین کو پکڑ کر اسے زیادہ بلند مدار میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
امریکی کمپنی کٹالسٹ کی جانب سے تیار کیا گیا بغیر پائلٹ خلائی جہاز 3 جولائی کو پیگاسس نامی چھوٹے راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔
تاہم 28 جولائی کو خلائی جہاز کے قابو سے باہر ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ خلائی جہاز تقریباً 72 گھنٹے تک بے قابو گردش کرتا رہا، اس دوران مواصلاتی رابطہ منقطع ہونے سمیت متعدد تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ یہ وہ نتیجہ نہیں تھا جس کے لیے مشن پر کام کیا جا رہا تھا، تاہم اس ناکامی سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ مشن کی کوشش کرنا ضروری تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خلائی ملبہ چاند سے جا ٹکرایا، سائنسدانوں کی نظریں اثرات پر مرکوز
انہوں نے کہا کہ ٹیم نے غیر معمولی تیزی کے ساتھ کام کرتے ہوئے سوئفٹ کو مزید سائنسی تحقیق کا موقع فراہم کرنے اور مستقبل میں امریکا کو مصنوعی سیاروں کی سروسنگ کے لیے درکار صلاحیتیں بہتر بنانے کی کوشش کی۔
ناسا کے مطابق مشن کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کے باوجود خلائی جہاز سوئفٹ دوربین تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھے گا تاکہ قیمتی معلومات حاصل کی جاسکیں جو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔
خلائی جہاز تیار کرنے والی کمپنی کٹالسٹ کے مطابق مسلسل قابو پانے کے مسائل ہی مشن ختم کرنے کی بنیادی وجہ بنے۔
سوئفٹ دوربین کی ممکنہ واپسی کے بعد اس کا زمین کے ماحول میں داخل ہوکر جل جانا متوقع ہے، تاہم ناسا کی جانب سے اس سے پہلے اس سے زیادہ سے زیادہ سائنسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔












