ناسا  نے اپنی گرتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کے لیے ریسکیو مشن لانچ کردیا

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا نے گرتی ہوئی سوئفٹ آبزرویٹری دوربین کو بچانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا منفرد ریسکیو مشن کامیابی سے لانچ کر دیا۔ سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث مشن کو گزشتہ روز مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم جمعہ کو اسے کامیابی کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔

یہ مشن ناسا کی پرانی سوئفٹ آبزرویٹری کو بچانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جو گاما شعاعوں کے دھماکوں سمیت انتہائی طاقتور کائناتی مظاہر کا مشاہدہ کرتی ہے۔ بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی کے باعث فضائی مزاحمت میں اضافے سے دوربین کا مدار مسلسل کم ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسے زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل جانے کا خطرہ لاحق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کا خلائی دوربین کو بچانے کے لیے روبوٹک مشن، لانچنگ خراب موسم کے باعث مؤخر

ناسا کے انجینئرز کے مطابق دوربین کو بچانے کے لیے ایک سال سے بھی کم وقت باقی تھا، کیونکہ اگر اس کا مدار 186 میل سے نیچے آ جاتا تو اسے بچانا ممکن نہ رہتا۔

مشن کے لیے ناسا نے کیٹالسٹ اسپیس کمپنی کو معاہدہ دیا، جس کے تحت لنک نامی روبوٹک خلائی گاڑی کو نارتھروپ گرومن کے پیگاسس راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔

لنک خلائی گاڑی اپنے تین متحرک بازوؤں کی مدد سے سوئفٹ دوربین کو مدار میں پکڑے گی اور اسے موجودہ مقام سے تقریباً 300 کلومیٹر بلند مدار میں منتقل کرے گی۔

منصوبے کے مطابق خلائی گاڑی ابتدائی چند ہفتوں تک اپنے تمام نظاموں کی جانچ اور مطلوبہ پوزیشن حاصل کرے گی، جس کے بعد وہ دوربین کے گرد چکر لگا کر اس کی حالت کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد تینوں بازوؤں کی مدد سے دوربین کو مضبوطی سے تھام کر اپنے تھرسٹرز کے ذریعے نہایت احتیاط سے اسے دوبارہ 373 میل کی اصل اور محفوظ بلندی تک پہنچایا جائے گا۔

ناسا کے مطابق اس پورے ریسکیو آپریشن میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا اپنی دیوہیکل خلائی دوربین کو بچانے کے لیے کوشاں، امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی سے مدد لے لی

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہے، تاہم کامیابی کی صورت میں خلائی سیارچوں اور دوربینوں کو مدار میں بچانے اور ان کی مرمت کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد مستقبل میں ہبل خلائی دوربین سمیت دیگر اہم خلائی اثاثوں کو بھی اسی طرز پر محفوظ رکھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

خلائی سائنس دان ڈاکٹر سائمون باربر نے کہا کہ یہ ایک انتہائی پرخطر مشن ہے، لیکن ناسا کا خیال ہے کہ یہ کوشش ضرور کرنی چاہیے، کیونکہ سوئفٹ دوربین ایسے انتہائی طاقتور کائناتی مظاہر کا مشاہدہ کرتی ہے جن کا مطالعہ کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا کے ایران پر ایک بار پھر فضائی حملے، جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا

کراچی: 6 سالہ بچہ مبینہ زیادتی  کے بعد قتل، 20 سالہ پڑوسی گرفتار

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ دہرادیا، ڈنمارک کا دوٹوک انکار

اسرائیل مخالف پوسٹ پر مقدمہ، ریما حسن نے کارروائی کو فلسطین حامی آوازیں دبانے کی کوشش قرار دے دیا

’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، پاکستان کا امریکا اور ایران پر زور

ویڈیو

خیبرپختونخوا حکومت کا مراعات سے متعلق قانون، عوام کی جانب سے شدید ردعمل

بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری

ایران کے ساتھ معاہدہ اور جنگ بندی ختم ہو چکی، ڈیل نہیں کرنا چاہتا، صدر ٹرمپ

کالم / تجزیہ

بھارتی حکومت ایک فلم سےکیوں خوفزدہ ہوگئی؟

سندھ طاس: بھارت کی اسٹریٹیجک مس کیلکولیشن

فیفا فٹبال میں چھپی صدی کی کہانی