سندھ میں تعلیم کے شعبے سے متعلق سامنے آنے والے حالیہ اعداد و شمار نے صوبے کے تعلیمی نظام پر کئی اہم سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
ایک طرف صوبے کے 6 ہزار 220 سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو مخدوش اور خطرناک قرار دے کر طلبہ کو متبادل اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دوسری جانب محکمہ اسکول تعلیم میں گریڈ 16 کے 6 جعلی سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی بھرتیوں کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ حکومت کے زیرانتظام ایک بھی سڑک خراب نہیں، شرجیل میمن کا دعویٰ
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سندھ میں لاکھوں بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں اور حکومت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں بھاری رقوم مختص کیے جانے کے باوجود اسکولوں کی عمارتوں، بچوں کی اسکول تک رسائی اور محکمہ کے انتظامی نظام سے متعلق سوالات مسلسل موجود ہیں۔
سندھ کے 6 ہزار 220 اسکول خطرناک قرار
محکمہ تعلیم سندھ کے مانیٹرنگ ونگ نے صوبے کے 30 اضلاع میں 6 ہزار 220 اسکولوں کو مخدوش، خطرناک یا جزوی طور پر خستہ حال قرار دیا ہے۔
مون سون سیزن کے پیش نظر محکمہ تعلیم نے ان اسکولوں میں تدریسی سرگرمیاں روکنے اور طلبہ کو قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ تعلیم کے حکام سے مشاورت کرکے مخدوش اسکولوں کے قریب مناسب متبادل تعلیمی اداروں کی نشاندہی کی جائے، تاکہ طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ مکمل متاثر نہ ہو۔
محکمہ تعلیم کے مطابق بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر میں مخدوش اسکولوں کی تعداد زیادہ ہے۔
بچوں کو فوری طور پر محفوظ عمارتوں میں منتقل کرنا بلاشبہ ضروری اقدام ہے، لیکن اس فیصلے کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی جڑا ہوا ہے کہ یہ اسکول آخر اس حالت تک کیسے پہنچے اور ان کی مستقل بحالی کب ہوگی؟
6 ہزار 220 اسکول، لیکن مرمت کب ہوگی؟
محکمہ تعلیم کی جانب سے فی الحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مخدوش قرار دی گئی عمارتوں کی مرمت یا تعمیر نو کب شروع ہوگی، اس کے لیے کتنی رقم درکار ہے، کام کب تک مکمل ہوگا اور طلبہ اپنے اصل اسکولوں میں کب واپس جاسکیں گے۔
مزید پڑھیں:جڑواں شہروں میں بارشوں نے تباہی مچادی، ندی نالوں میں طغیانی، ایمرجنسی نافذ
یعنی فی الحال بچوں کو متبادل اسکولوں میں منتقل کرنا ایک عارضی انتظام ہے، جبکہ اصل مسئلہ ان عمارتوں کی بحالی کا ہے۔
اگر ہزاروں اسکولوں کی عمارتیں پہلے ہی خطرناک قرار دی جاچکی تھیں تو سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ان کی حالت کی نگرانی اور بروقت مرمت کا نظام کیا تھا؟
تعلیم کے لیے بجٹ، پھر عمارتیں مخدوش کیوں؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ سندھ حکومت نے 27-2026کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے بڑی رقوم مختص کی ہیں۔
دستیاب بجٹ تفصیلات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے 23 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زیادہ مختص کیے گئے ہیں، جبکہ یورپی یونین کے ’ڈی ای ای پی‘ منصوبے کے تحت مزید 80 کروڑ 32 لاکھ روپے بحالی کے لیے رکھے گئے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ حکومت نے بجٹ مختص کیا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ مختص رقم کہاں اور کس رفتار سے خرچ ہورہی ہے، کتنے اسکول بحال ہوئے اور کتنے اب بھی خطرناک حالت میں موجود ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:خستہ عمارتوں کے خلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، جلد عملدر آمد کرنے کا اعلان
6 ہزار 220 اسکولوں کا مخدوش قرار دیا جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ محض بجٹ مختص کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے استعمال، نگرانی اور نتائج کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
سندھ میں 70 لاکھ بچے اسکول سے باہر
سندھ کے تعلیمی بحران کی تصویر صرف اسکولوں کی عمارتوں سے مکمل نہیں ہوتی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مختلف مواقع پر صوبے میں تقریباً 70 لاکھ بچوں کے اسکولوں سے باہر ہونے کا ذکر کرچکے ہیں۔
پاکستان ادارہ برائے تعلیم کی24-2023کی رپورٹ کے مطابق بھی سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کو ایک ہی وقت میں 2 بڑے مسائل کا سامنا ہے؛ ایک طرف وہ بچے ہیں جو اسکول تک پہنچ ہی نہیں پا رہے اور دوسری طرف وہ بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں مگر ان میں سے ہزاروں کو اب مخدوش عمارتوں کے باعث دوسرے اسکولوں میں منتقل کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ صورتحال صرف تعلیمی اداروں کی تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ اسکول تک رسائی، عمارتوں کی حالت، تعلیمی سہولیات اور انتظامی نگرانی کا مجموعی مسئلہ بن چکی ہے۔
اسی دوران جعلی اساتذہ کی بھرتیوں کا انکشاف
تعلیمی نظام کے ان مسائل کے درمیان محکمہ اسکول تعلیم سندھ میں گریڈ 16 کے 6 جعلی سیکنڈری اسکول ٹیچرز کی بھرتیوں کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق ان افراد کی میرپورخاص میں تقرری کی گئی اور انہیں مبینہ طور پر بوگس آفر آرڈرز جاری کیے گئے۔
معاملہ صرف جعلی آفر آرڈرز تک محدود نہیں رہا۔ محکمہ کے مطابق ان دستاویزات پر بار کوڈ بھی لگائے گئے اور بعد ازاں پرسنل آئی ڈیز بھی الاٹ کردی گئیں۔
یعنی جعلی بھرتی کا معاملہ محکمہ کے مختلف انتظامی مراحل سے گزرنے کے بعد سامنے آیا۔
محکمہ اسکول تعلیم نے کارروائی کرتے ہوئے تمام 6 افراد کی بھرتیوں کو جعلی قرار دے دیا اور متعلقہ پرسنل آئی ڈیز بلاک کردی گئیں۔
ان افراد میں فہد علی، انیل کمار، شاہ رخ خان، زاہد علی، ارشد علی اور عابدہ پروین شامل ہیں۔
محکمہ کی جانب سے اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے، جس میں مذکورہ افراد کی تنخواہیں روکنے اور اب تک وصول کی گئی رقم قومی خزانے میں واپس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: لیاری کا ککری گراؤنڈ عالمی معیار کے اسپورٹس کمپلیکس میں کیسے بدلا؟
لیکن اصل سوال ابھی باقی ہے، یہ کارروائی ایک طرف، لیکن معاملے کا سب سے اہم پہلو ابھی بھی جواب طلب ہے۔
جعلی آفر آرڈر تیار کیسے ہوا؟
اس پر محکمہ کا بار کوڈ کیسے لگا؟
پرسنل آئی ڈی کس بنیاد پر جاری ہوئی؟
تنخواہ کا عمل کیسے آگے بڑھا؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ بھرتیاں جعلی تھیں تو اس پورے عمل میں ذمہ دار کون تھا؟
محکمہ کی جانب سے جعلی بھرتیوں کو منسوخ کرنا اور تنخواہیں روکنے کی ہدایت اپنی جگہ، تاہم عوامی مفاد میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔
مسئلہ صرف اسکولوں کا نہیں، پورے نظام کی نگرانی کا ہے
سندھ کے تعلیمی نظام کی یہ تصویر کئی سوالات ایک ساتھ سامنے لاتی ہے۔
6 ہزار 220 اسکول مخدوش ہیں۔
لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اسکولوں کی بحالی کے لیے بجٹ موجود ہے۔
اور اسی دوران محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کا معاملہ بھی سامنے آجاتا ہے۔
ایسے میں ضرورت صرف ہنگامی بنیادوں پر طلبہ کو متبادل اسکولوں میں منتقل کرنے یا جعلی بھرتیوں کی پرسنل آئی ڈیز بلاک کرنے کی نہیں، بلکہ ایک جامع اور شفاف نظامِ نگرانی کی ہے۔
حکومت کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ مخدوش اسکولوں کی بحالی کے لیے مختص رقم میں سے کتنی رقم خرچ ہوئی، کتنے اسکول مکمل طور پر بحال کیے گئے اور باقی اسکولوں کے لیے کیا ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح جعلی بھرتیوں کے معاملے میں بھی صرف جعلی ملازمین کی نشاندہی کافی نہیں۔ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ پورے عمل میں کون کون سے انتظامی مراحل پر نگرانی ناکام ہوئی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
کیونکہ معاملہ صرف ایک اسکول، 6 اساتذہ یا چند خستہ حال عمارتوں کا نہیں۔ بات سندھ کے ان بچوں کی ہے جن کا حق صرف اسکول کی عمارت نہیں، بلکہ ایک محفوظ، باقاعدہ اور معیاری تعلیم ہے۔
اور جب صوبے میں لاکھوں بچے پہلے ہی اسکول سے باہر ہوں، ہزاروں اسکول محفوظ نہ ہوں اور محکمہ تعلیم کے اندر جعلی بھرتیوں جیسے معاملات سامنے آئیں تو سب سے بڑا سوال یہی بنتا ہے کہ عوام کے پیسے سے چلنے والے اس پورے نظام کا حساب اور نگرانی آخر کون کرے گا؟














