بنگلادیشی ارکانِ پارلیمنٹ نے حکمران جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینیئر رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو ملک کا نیا صدر منتخب کر لیا ہے۔
78 سالہ عالمگیر اگرچہ ایک بڑی حد تک رسمی نوعیت کے عہدے پر فائز ہوں گے، تاہم اب وہ سربراہِ مملکت اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے، جبکہ ملکی انتظامی اختیارات بدستور وزیراعظم اور کابینہ ہی کے پاس رہیں گے۔
سال 2024 میں شیخ حسینہ کی زیرِ قیادت عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد بی این پی رواں سال فروری میں دوبارہ اقتدار میں آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر شکست دے کر تاریخ رقم کردی
12 فروری کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بی این پی اور اس کے اتحادیوں کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو چکی ہے، جس نے صدارتی انتخاب میں ان کی برتری کی راہ ہموار کی۔
مقابلہ کس کے درمیان تھا؟
پارلیمانی ووٹنگ میں مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپوزیشن اتحاد کے مشترکہ امیدوار اولی احمد کو شکست دی۔ اولی احمد ایک ریٹائرڈ آرمی کرنل اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین ہیں اور انہیں جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد کی حمایت حاصل تھی۔
صدارتی انتخاب کیوں ضروری ہوا؟
یہ صدارتی انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کی جانب سے اپنی 5 سالہ مدت مکمل ہونے سے قبل ہی گزشتہ ماہ خرابیِ صحت کی بنا پر مستعفی ہو جانے کے باعث عمل میں لایا گیا۔ عوامی لیگ کے سابق سیاست دان اور شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی شہاب الدین 2023 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔
مرزا فخرالاسلام عالمگیر کا سیاسی سفر
بی این پی کے سینیئر ترین رہنماؤں میں شمار ہونے والے مرزا فخرالاسلام عالمگیر 2016 سے اپنی صدارتی نامزدگی تک پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے فرائض انجام دیتے رہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں شیخ حسینہ کی میڈیا سے گفتگو پر بنگلہ دیش کا سخت احتجاج، دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ
شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں وہ اپوزیشن کی ایک توانا آواز بن کر ابھرے، جس کے نتیجے میں انہیں متعدد بار گرفتاریوں اور عدالتی مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔














