پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار بخاری نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو رہا کردیا جائے تو وہ فوج یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کریں گے۔
رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ذوالفقار بخاری نے کہا کہ عمران خان رہائی کے بعد ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ ان کے بقول عمران خان ملک کے بہتر مفاد کے لیے اپنے دکھ اور تکلیف کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ یا فوجی قیادت سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی عمران خان شفا انٹرنیشنل اسپتال سے اڈیالا جیل منتقل
ذوالفقار بخاری نے کہا کہ عاصم منیر ملک کے طاقتور ترین شخص ہیں اور اگر وہ مصالحت کا راستہ اختیار کریں تو ملک میں سیاسی کشیدگی کم ہوسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔
یہ بیانات پی ٹی آئی کے سابق مؤقف کے مقابلے میں نسبتاً مفاہمتی رویے کی علامت قرار دیے جا رہے ہیں۔ عمران خان کے حامی گزشتہ کئی برس سے آرمی چیف عاصم منیر پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں، جبکہ عمران خان بھی ماضی میں ان کے خلاف سخت بیانات دے چکے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کے بیانات اور عمران خان کے اپنے خیالات میں فرق ہوسکتا ہے۔ پارٹی کے متعدد رہنما جیل میں ہیں جبکہ کئی دیگر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔
ادھر ذوالفقار بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک گیر مارچ کے اعلان پر قائم ہے، چاہے عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے یا نہیں۔ مارچ میں عمران خان کے علاج، اہل خانہ، ڈاکٹروں اور وکلا تک رسائی، مقدمات کی فوری سماعت اور بالآخر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ان کے مطابق روپوش پی ٹی آئی رہنما بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہوں گے یا اسے منظم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔













