نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کسی شخص کی کمر کا سائز اس کے دل کی صحت کے بارے میں جسمانی وزن سے زیادہ اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ محققین کے مطابق صرف باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) پر انحصار کرنے سے دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بعض خطرات نظر انداز ہوسکتے ہیں۔
کراس کوہورٹ کولیبوریشن کے محققین نے 15 طویل مدتی طبی مطالعات میں شامل قریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ شرکا کی قریباً 20 سال تک نگرانی کی گئی۔
مزید پڑھیں:عابد شیر علی نے دوسری شادی کرلی، دلہن کا تعلق کہاں سے ہے؟
جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بی ایم آئی کے لحاظ سے نارمل وزن یا زائد وزن رکھنے والے بعض افراد کے پیٹ کے گرد چربی کی مقدار زیادہ تھی۔ ایسے افراد میں کمر کا سائز زیادہ ہونے یا کمر اور کولہے کے تناسب میں اضافے کے باعث دل سے متعلق مختلف بیماریوں اور موت کا خطرہ عمومی طور پر 15 سے 50 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔
Dr. Ben Bikman reveals why insulin resistance is the silent killer destroying your heart health and autonomic function
“One of the reasons I wanted to put these thoughts into a book is that as much as we have all these chronic diseases, they share a common core. I’m kind of… pic.twitter.com/He7kPDzjRc
— Health Almanac (@Health_Almanac) August 14, 2026
محققین کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں چربی کی تقسیم کو جانچنا، صرف بی ایم آئی کے مقابلے میں صحت اور دل کے امراض کے خطرے کی زیادہ مکمل تصویر فراہم کرسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بی ایم آئی صرف قد کے مقابلے میں وزن کی پیمائش کرتا ہے، یہ نہیں بتاتا کہ جسم میں چربی کہاں جمع ہے، جبکہ پیٹ کے اندرونی حصوں میں جمع چربی صحت کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اندرونی اعضا کے گرد موجود چربی جسم میں سوزش، انسولین کے خلاف مزاحمت اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے جیسے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:اسحاق ڈار اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے درمیان رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
تحقیق میں ہارٹ اٹیک، فالج، ہارٹ فیلئر، ایٹریئل فبریلیشن اور قلبی امراض کے باعث ہونے والی اموات سمیت متعدد صحت کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔
تاہم محققین نے تحقیق کی بعض حدود بھی بیان کیں۔ ان کے پاس شرکا کی جسمانی سرگرمی، خوراک اور موٹاپے کے جینیاتی خطرات سے متعلق مکمل معلومات موجود نہیں تھیں، جبکہ کمر کا سائز اور کمر و کولہے کے تناسب کی پیمائش بھی صرف ایک مرتبہ کی گئی۔ اس لیے وقت کے ساتھ پیٹ کی چربی میں ہونے والی تبدیلیوں اور دل کے امراض کے خطرے کے درمیان تعلق کا مکمل تعین نہیں کیا جاسکا۔














