معروف شاعر خالد مسعود خان کا ایک شگفتہ شعر ہے::
اُس کا رشتہ نہ ہونے کا باعث اس کا ابـا تھا
سب ’حريان‘ تھے اس نے ايسا ’ابّا‘ کہاں سے لبھا تھا
امریکی قوم بھی حریان (حیران) ہے کہ اس نے ٹرمپ ایسا ابّا کہاں سے لبھا(تلاش کیا) تھا۔ یہ اپنی نوعیت کے بالکل ہی منفرد صدر ہیں۔ ان کی حرکتیں، بیانات، پالیسیاں عجب دلچسپ ہوتی ہیں۔
دنیا میں کچھ لوگ ہوتے ہیں: اَن پریڈکٹ ایبل۔ اردو زبان میں اس کو کھول کر ہی بیان کیا جاسکتا ہے، ایسا شخص جس کے بارے میں توقع نہ ہو کہ وہ آپ کی بات پر کیا ردعمل ظاہر کرے گا۔ صدر ٹرمپ ایسے ہی ہیں۔
ٹرمپ صاحب جب سے ارب پتیوں کے کلب میں شامل ہوئے، ان کے مزاج ہی نہیں ملتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب انسان ہیں، طاقتور انسان ہیں، غیر معمولی انسان ہیں۔ وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ انھیں زعم ہے کہ دنیا میں صرف ایک ہی فرد معاملہ فہم بچا ہے، اور وہ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ۔ باقی سب کے سب احمق۔ دنیا والوں کو احسان مند ہونا چاہیے کہ ان کے درمیان ٹرمپ موجود ہے۔
ہمارے ہاں بھی ایک وزیراعظم بلکہ ’بقراط اعظم‘ ہوا کرتے تھے۔ ان میں بھی یہی ساری خصوصیات تھیں۔ وہ دنیا کی کسی قوم کے ہاں بھی جاتے تھے تو ان سے کہتے تھے:’آپ لوگ اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتے، جتنا میں آپ کو جانتا ہوں۔‘
پہلے پہل ٹرمپ صرف اور صرف بزنس کرتے رہے، جب انھوں نے دولت کا بڑا ڈھیر اکٹھا کرلیا۔ تب انھوں نے سوچا کہ اب انھیں میدانِ سیاست میں قدم رکھنا چاہیے کیونکہ پوری امریکی قوم ایک ’نجات دہندہ‘ یعنی اُن کی منتظر ہے۔ وہ ری پبلیکن پارٹی کے رکن بنے لیکن جس تیزی سے وہاں اپنی دال گلانا چاہتے تھے، گل نہیں رہی تھی۔ 13برس کی جدوجہد کے باوجود دال نہ گل سکی تو انھوں نے ری پبلیکن پارٹی کو خیرباد کہا اور 1999 میں ’ریفارم پارٹی‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ ایک نئی جماعت تھی۔ راس پروٹ نامی ارب پتی اس کے بانی تھے۔ اپنے قیام ( 1995 میں) کے محض ایک برس بعد ہونے والے صدارتی انتخابات میں اس پارٹی نے امریکیوں کے 8 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ پھر کمال یہ ہوا کہ 2 برس بعد مینیسوٹا کے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے گورنر کی سیٹ بھی سنبھال لی۔
’ریفارم پارٹی‘ کی ان کامیابیوں نے ٹرمپ صاحب کی آنکھیں کھول دیں، چنانچہ انھوں نے ’ریفارم پارٹی‘ کو جوائن کرلیا لیکن ان کی بدقسمتی کہ پارٹی دھڑے بندیوں کا شکار ہوگئی۔ نتیجتاً ٹرمپ نے بھی اپنی گٹھڑی اٹھائی اور ڈیموکریٹک پارٹی میں جا بیٹھے۔ اور پھر اگلے سات، آٹھ برس تک اسی پارٹی میں اپنا مقام و مرتبہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔
جب توقع کے برعکس کامیابی نہ ملی تو بھائی صاحب صبح کے بھولے کی طرح شام کو ری پبلیکن پارٹی میں لوٹ آئے۔ اور پھر انھوں نے ری پبلیکن پارٹی کو فتح کرلیا۔ پارٹی میں بہت سے لوگوں کو اپنی دولت سے مسخر کیا اور جو ’امریکا کو دوبارہ عظیم‘ دیکھنے کے لیے ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے، انھیں حسین خواب دکھائے۔ مثلاً
انھوں نے پارٹی ارکان کو باور کرایا کہ انھیں صرف اس ملک اور قوم کی فکر ہے۔ نہ انھیں کسی قسم کے مفادات کا لالچ ہے اور نہ ہی وہ پارٹی اور اس ملک میں موجود مفاد پرستوں کو مفاد پرست رہنے دیں گے۔ وہ خود ارب پتی ہیں۔ اپنے الیکشن کا خرچ خود اٹھائیں گے، اس لیے انہیں بڑے سیاسی ڈونرز یا کارپوریٹ لابیوں کے آگے جھکنے کی ضرورت نہیں۔ اس سے پارٹی کے عام ووٹرز میں تاثر قائم ہوا کہ ٹرمپ ملک و قوم سے پکے مخلص اور ’بے باک‘ لیڈر ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے ذاتی وسائل اور برانڈ نیم کو بڑی اور پرشکوہ سیاسی ریلیوں، میڈیا کوریج اور ڈیجیٹل اشتہاری مہمات کے لیے استعمال کیا، جس سے پارٹی کے اندر گراس روٹ لیول پر ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔
یوں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے پارٹی کی چوٹی تک جا پہنچے۔ پہلی بار صدر بنے تو انھوں نے اپنے سیاسی فنڈز کے ذریعے ان ری پبلیکن امیدواروں کی مالی مدد کی جو ان کے نظریات اور ایجنڈے مثلاً سب سے پہلے امریکا‘ کے کمیٹڈ حامی تھے۔
انھوں نے پارٹی کے اندر لوگوں کو اور قوم کو کچھ حسین خواب بھی دکھائے۔ مثلاً وہ صدر منتخب ہوکر امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کریں گے، ہر طرف کاروبار چمک اٹھیں گے۔ ٹیکسوں میں کمی کریں گے تو لوگ خوشحال ہونا شروع ہوجائیں گے، مقامی لوگوں کو روزگار میں پہلی ترجیح پر رکھیں گے، یوں بے روزگاری صفر ہوجائے گی۔ دنیا کی ساری اقوام سے آنے والے سامان پر ڈیوٹیز کی شرح زیادہ کردیں گے، اس طرح ملک میں ڈالرز کے ڈھیر لگ جائیں گے۔ غیرملکیوں کے امریکا میں داخلے کی حوصلہ شکنی کریں گے، پھر امریکا صرف امریکیوں کا ہوگا۔
یہ اور ایسے ہی دیگر خواب دیکھ کر ری پبلیکنز اور دیگر امریکیوں کو ہر طرف ہرا ہی ہرا نظر آنے لگا۔ انھوں نے ٹرمپ صاحب کو ایک بار اپنا صدر بنایا، پھر دوسری بار بھی اپنی لگام ان کے ہاتھ تھما دی۔ لیکن اب امریکیوں کو پتہ چلا کہ ٹرمپ نے سبز خواب ہی دکھائے تھے۔
جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے، 64 فیصد امریکیوں کا یہی خیال ہے کہ ٹرمپ صاحب تو فارغ ہی نکلے، ان کے پلّے تو کچھ بھی نہیں تھا۔ اس وقت امریکی نوجوانوں( جن کی عمر 18 سے 29 برس ہے) میں ٹرمپ کی مقبولیت 25 سے 28 برس تک پہنچ چکی ہے۔ حالانکہ دوسری مدت صدارت شروع ہونے کے وقت ان اس عمر کے نوجوانوں میں مقبولیت کی شرح 50 فیصد تھی۔
سبب وہی ہے کہ ٹرمپ صاحب جو وعدے کرکے دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچے تھے، وہ پوری نہیں کر پا رہے۔ الٹا ایران سے جنگ چھیڑ دی جس نے امریکی معیشت کو دفاعی اخراجات اور افراطِ زر (مہنگائی) کی شکل میں بھاری مالی نقصان پہنچایا ہے۔ جنگ کے پہلے 108 دنوں میں 113 ارب ڈالرز سے زیادہ آگ میں جل کر راکھ ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں ہر امریکی گھرانے کے اوسطاً ماہانہ اخراجات میں 1100 ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
اب بھائی صاحب سخت فرسٹریشن کے شکار ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کوئی بھی اس جنگ میں ہاتھ بٹانے کو تیار نہیں، کوئی بھی امریکا کو زیادہ ٹیرف دینے کو تیار نہیں۔ اس قدر بڑا بُرا جوا کھیلنے کے بعد بھی ٹرمپ صاحب کے دماغ سے یہ بات نکلنے کو تیار نہیں کہ وہ ایک کامیاب، طاقتور، فاتح اور غیر معمولی شخص ہیں، وہ اب بھی جو چاہیں، کرسکتے ہیں۔
اب وہ دن رات بیٹھے بیٹھے آنکھیں بند کرکے خواب دیکھتے ہیں اور مسکراتے رہتے ہیں کہ انھوں نے دنیا کی فلاں قوم کو فتح کرلیا ہے، فلاں قوم ان کے قدموں میں بیٹھ کر مذاکرات ی بھیک مانگ رہی ہے، دنیا کا فلاں خطہ ان کی ملکیت ہوچکا۔ اب وہ وائٹ ہاؤس کے لان میں ٹوٹے ہوئے کیلکولیٹر پر ڈیوٹی کا حساب لگاتے پائے جاتے ہیں کہ وہ دنیا کی باقی تمام چھوٹی بڑی معیشتوں پر زیادہ ٹیرف لگا کر ملک میں ڈالروں کا ایک بلند و بالا پہاڑ کھڑا کرلیں گے۔ پھر بلّے ای بلّے ہو جائے گی۔
دوسری طرف امریکی قوم ٹرمپ کو اس حالت میں بیٹھے دیکھ کر ’حَریان‘ ہے کہ اس نے ایسا ابا کہاں سے ’لبھّا‘ تھا۔
چلتے چلتے خالد مسعود کے سارے شعر سن لیں:
اس کا رشتہ نہ ہونے کا باعث اس کا ابّا تھا
سب حَريان تھے اس نے ايسا ابّا کہاں سے لبھا تھا
سمجھ نہيں آتی بتی دھاريں وہ کس سے بخشائے
اس کي ماں تو فيڈر تھی اور سُکّے دودھ کا ڈبہ تھا
اوس جگہ پر کافی لوکی منتيں مانگنے پہنچے
پچھلے ورہے جہاں پر ہم نے مويا ککڑ دبا تھا
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













