ورجینیا وولف ممتاز برطانوی ادیبہ تھیں۔ 1929 میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا، جس کا عنوان (A Room of One’s Own) تھا۔ اس میں انہوں نے ادب تخلیق کرنے والی خواتین کی زبوں حالی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اگر انہیں گزر اوقات کے لیے مناسب پیسے اور رہنے کے لیے ایک الگ کمرہ فراہم کر دیا جائے تو خواتین بھی وہی ادبی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں جو مرد ادیبوں کو حاصل ہوتی ہیں۔
قرۃ العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینیا وولف کہنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ 1929 میں اٹھائے گئے سوال کا بہترین جواب قرۃ العین حیدر کی صورت میں سامنے آیا۔ ان کا دسمبر 1959 میں پاکستان میں لکھا اور شائع ہونے والا ناول ’آگ کا دریا‘ ورجینیا وولف کے سوال کی ایک ٹھوس دلیل ہے۔
قرۃ العین حیدر برصغیر کے ان عظیم ناول نگاروں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اردو ناول کو عالمی ادبی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اہم اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں 1967 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، 1984 میں پدما شری، 1989 میں بھارت کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز ’گیان پیٹھ‘، 1994 میں ساہتیہ اکادمی فیلوشپ اور 2005 میں پدما بھوشن سے نوازا گیا۔ وہ اردو ادب کی دوسری شخصیت اور پہلی اردو ادیبہ تھیں جنہیں ’گیان پیٹھ‘ ایوارڈ ملا۔
عینی آپا کی ادبی حیثیت ایسی تھی کہ معتبر اہلِ قلم انہیں نوبیل ادبی انعام کا مستحق قرار دیتے رہے ہیں۔ 2008 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے فرانسیسی ادیب ژاں ماری گستاؤ لی کلیزیو (J. M. G. Le Clézio) نے سوئیڈش صحافی نینا لیکاندر (Nina Lekander) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض دوسرے ادیب بھی اس انعام کے مستحق تھے، جن میں مارٹنیک کے معروف ادیب ایڈوارڈ گلیسان (Édouard Glissant) اور اردو کی ادیبہ قرۃ العین حیدر بھی شامل ہیں۔
لی کلیزیو نے اپنے نوبیل لیکچر میں بھی قرۃ العین حیدر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ’آگ کا دریا‘ کو ان کا ’رزمیہ ناول‘ قرار دیا اور اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔
قرۃ العین حیدر 20 جنوری 1927 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک ایسے ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں ادب زندگی کا حصہ تھا۔ ان کے والد سید سجاد حیدر یلدرم اردو کے ممتاز ادیب اور ابتدائی اردو افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ نذر سجاد حیدر بھی معروف ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔
قیام پاکستان کے بعد قرۃ العین حیدر کا خاندان پاکستان آگیا۔ 1959 میں ان کا شہرۂ آفاق ناول ’آگ کا دریا‘ منظرعام پر آیا۔ ناول کی اشاعت کے بعد پاکستان میں اس پر شدید بحث اور تنقید ہوئی۔ قرۃ العین حیدر ان دنوں وزارتِ اطلاعات و نشریات سے وابستہ تھیں۔ وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے بھی وابستہ رہیں، تاہم بوجوہ پاکستان کے ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ نہ ہوسکیں۔
’آگ کا دریا‘ کی اشاعت کے بعد اس ناول پر پاکستان میں پیدا ہونے والا تنازع ادبی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔ ناول میں برصغیر کی تہذیبی اور تاریخی وحدت کے تصور کو جس انداز میں پیش کیا گیا، اسے بعض حلقوں نے پاکستان کے نظریاتی تصور کے منافی گردانا۔
قرۃالعین حیدر فروری 1961 میں اپنی والدہ کے علاج کی غرض سے پاکستان سے لندن گئیں اور بعد ازاں بھارت چلی گئیں۔ بھارت میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے باوجود قرۃالعین حیدر پاکستان آتی جاتی رہیں۔ ان کا پاکستان کا آخری دورہ وفات سے ایک سال قبل 2006 میں ہوا۔ 21 اگست 2007 کو نوئیڈا، اترپردیش میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
قدرت اللہ شہاب ’شہاب نامہ‘ کے صفحہ نمبر 747 پر ’صدر ایوب اور ادیب‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:
’جب مارشل لاء نافذ ہوا تو اس کے ساتھ ہی اخبارات پر کڑا سنسر بھی قائم ہو گیا۔ افواہیں پھیلانا بھی جرم تھا۔ مارشل لاء لگتے ہی ایک روز صبح سویرے قرۃ العین حیدر میرے پاس آئی۔ بال بکھرے، چہرہ اداس، آنکھیں پریشان۔ آتے ہی بولی: ’اب کیا ہوگا؟‘
’کس بات کا کیا ہوگا؟‘ میں نے وضاحت طلب کی‘۔
’میرا مطلب ہے اب ادبی چانڈو خانوں میں بیٹھ کر Loose Talk کرنا بھی جرم ٹھہرا۔‘
’ہاں۔‘ میں نے کہا۔’گپ شپ بڑی آسانی سے افواہ کے زمرے میں آکر قابلِ گردن زنی قرار دی جا سکتی ہے۔‘
’تو گویا اب بھونکنے پر بھی پابندی عائد ہے؟‘ عینی نے بڑے کرب سے پوچھا۔
میں نے مارشل لاء کے ضابطے کے تحت بھونکنے کے خطرات و خدشات کی کچھ وضاحت کی تو عینی کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ آنسو چھپانے کے لیے اس نے مسکرانے کی کوشش کی اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کسی قدر لاپرواہی سے کہا۔ ’ارے بھئی، روز روز کون بھونکنا چاہتا ہے لیکن بھونکنے کی آزادی کا احساس بھی تو ایک عجیب نعمت ہے۔‘
میرا اندازہ ہے کہ قرۃالعین حیدر کے تحت الشعور نے اس روز اس لمحے پاکستان سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ وہ کوئی باغیانہ خیالات کی لڑکی نہ تھی اور نہ ہی اس کے قلم کی روشنائی میں تخریب پسندی، فحاشی، تلخی اور بے راہ روی کی کالک تھی ’میرے بھی صنم خانے‘ کی مصنفہ زندگی کی چلبلاہٹوں، ہلکی پھلکی رنگینیوں، رعنائیوں، فلرٹیشنوں، ثقافتی تصادموں ، سماجی بوکھلاہٹوں اور دل اور دماغ کی فسوں کاریوں میں کچھ حقیقی، کچھ افسانوی، کچھ رومانوی رنگ بھرنے کی ملکہ تھی، لیکن سنسر شپ کے تخیل ہی سے اس کو بڑا شد یہ ذہنی جھٹکا لگا۔ کچھ عجب نہیں، اسی جھٹکے کے ردِعمل نے اس کے قلم کی باگ ’آگ کا دریا‘ کی طرف موڑ دی ہو۔‘
لیکن قرۃ العین حیدر نے اس واقعے کی مکمل تردید کی۔ محقق و ادیب حمزہ فاروقی نے اردو مرکز لندن میں ان سے قدرت اللہ شہاب کی اس تحریر کا ذکر کیا تو ان کے مطابق عینی آپا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہاب صاحب کا یہ بیان درست نہیں اور انہوں نے کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔
قرۃ العین حیدر اپنی سوانح عمری ’کارِ جہاں دراز ہے‘ میں اس داستان کو یوں بیان کرتی ہیں:
’اتوار کی ایک صبح جمیل الدین کا فون آیا۔ آپ نے آج کا جنگ اور مورننگ نیوز دیکھے؟‘
’ہمارے پاس یہ دونوں اخبار نہیں آتے۔ کیا ہوا؟ خیریت؟‘
’اچھا میں ابھی آتا ہوں۔‘
چند منٹ بعد تشریف لائے۔ دونوں اخباروں میں ایک ہی صاحب جن کا نام پہلے کبھی نہیں سنا تھا، کا ایک طویل بیہودہ مضمون آگ کا دریا پر شائع ہوا تھا جو مکتبہ جدید لاہور سے 3 ماہ قبل چھپا تھا۔ 2 اخباروں میں یکساں مضمون بزبان اردو اور انگریزی ایک ہی روز چھپنا قابلِ غور معاملہ تھا۔ میں نے دونوں مضمون پڑھے۔
’یہ کون صاحب ہیں اور یہ کس کی سازش ہے، سمجھ نہیں آتا۔‘ عالی نے کہا۔
’میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔ سازش وازش کیا ہوگی۔ اس قسم کے لوگوں کو اگنور کرنا چاہیے۔‘ میں نے کہا۔
’نہیں۔ یہ کافی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ مفسدین کے فتنوں سے ہمیشہ خبردار رہیے۔‘
’لیکن اس فتنہ پردازی کی وجہ ہی کیا ہے؟‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’میں رائٹرز گلڈ کی طرف سے ان صاحب کو نوٹس بھیجتا ہوں۔ آپ نے مضمون سرسری طور پر پڑھا ہے ذرا غور سے پڑھیے۔‘ عالی نے مجھ سے کہا۔
دوسرے روز اردو مضمون کا بقیہ طویل حصہ جنگ میں شائع ہوا۔ ملک اور شہر میں خاصی سنسنی پھیلی، احباب اور بہی خواہوں نے گارڈن روڈ آ کر اس مضمون کی اشاعت کی مختلف النوع تہلکہ خیز تاویلیں شروع کیں۔ مختار زمن نے اپنے قانونی مشورے پیش کیے۔ سب بے انتہا پریشان اور برا فروختہ تھے۔
راولپنڈی سے ایک دوست نے مطلع کیا کہ ’معلوم ہوا ہے کہ یہ صاحب پہلے کسی صوبائی وزیر کے پی آر او تھے اور سے قبل چند لوگوں کو بلیک میل کر چکے ہیں‘۔ مضمون نگار کی معافی کے بعد قصہ رفع دفع ہوا لیکن بہت جلد پاکستان و ہند میں اس ناول کے متعلق ایک عجیب و غریب myth تیار ہونی شروع ہوگئی۔‘
آگے لکھتی ہیں: ’دوسری myth یہ تیار ہوئی کہ اس کتاب کی رائیلٹی نے دونوں ملکوں میں مصنفہ کو مالامال کردیا۔ عبرتناک حقیقت یہ ہے کہ دسمبر 59ء سے لیکر آج تک مکتبہ جدید لاہور نے قطعی ’فری‘ اڈیشن اس ناول کے شائع کیے ہیں اور اٹھارہواں ڈی لکس اڈیشن ساٹھ روپئے قیمت کا چھاپ چکے ہیں۔ ہندستان میں 61ء سے اب تک متعدد جعلی اڈیشن لکھنو، جالندھر اور جموں سے شائع ہو چکے ہیں۔ اور ان چوروں کو آجتک نہیں پکڑا گیا۔ جدید اردو ادب کی تاریخ میں یہ پہلا کثیر الاشاعت ناول جس کی رائیلٹی کا ایک پیسہ مصنف کو آج تک نہیں ملا۔‘
امریکا میں مقیم معروف بھارتی ادیب ستیہ پال آنند نے قرۃ العین حیدر سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا: ’عینی آپا سے آخری ملاقات دہلی میں ہوئی۔ میں پاکستان کے ایک ماہ کے دورے سے لاہور، پنڈی، میر پور، پشاور، سرگودھا، کراچی ہوتاہو ا لوٹا تھا۔ میں ان کے پاس 2 گھنٹے ٹھہرا۔ جن امور پر بات ہوئی، ان میں سر فہرست رہا پاکستان میں ’آگ کا دریا‘ کے تناظر میں ایک فضول قسم کی گرما گرمی، جس میں ان کے مخالفین نے یہ الزام لگایا کہ وہ پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتیں، اور ’آگ کا دریا‘ دراصل پاکستان نہیں بلکہ ’ہندوستان یعنی بھارت‘ کی تاریخ کو کھنگالتا ہے۔‘
’وہ پاکستان میں بسنے کے ارادے سے گئی تھیں لیکن اس قسم کی گفتگو نے، جو بآواز بلند تقاریب میں اور اخباروں یا ادبی رسالوں کے اداریوں میں کی گئی، ان کے دل کو اچاٹ کر دیا تھا، اور وہ انڈیا لوٹ آئیں۔ کہنے لگیں ’کسی کا کیا قصور تھا؟ اس وقت ’ادب برائے اسلام‘ کے ریلے میں کچھ پرانے ترقی پسند ادیب بھی بہہ گئے تھے۔‘
میں نے کہا، ’لیکن یہ بات تو انتظار حسین نے کہی تھی کہ آپ نے ’آگ کا دریا‘ میں تقسیم ہند کو ہندو مسلم مشترکہ ورثے کی شکست قرار دیا ہے اور انتظار حسین تو ادب برائے اسلام کا حامی نہیں ہے۔‘ بولیں ’یہ بات تو درست ہے لیکن جو کچھ اس نے کہا تھا اس کو صحیح تناظر میں سمجھا ہی نہیں گیا اور اس بات کو Taken for granted مان لیا گیا کہ میں اینٹی پارٹیشن ہوں۔‘
پھر کہنے لگیں، ’اچھا ہی ہوا، میں لوٹ آئی۔ وہاں بہت دوست احباب تھے، لیکن سبھی بے بس، یوں بھی اس معاشرے میں اکیلی عورت کے لیے، جو لکھتی بھی ہو اور مجلسی عادات رکھتی ہو، رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ یہاں میں ایک بھرپور زندگی جی سکی ہوں۔‘
یہ جملہ شاید عینی آپا کی پوری زندگی کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے اور اس کی سب سے بڑی وضاحت بھی۔ وہ جس خطے کی تہذیبی یادداشت کو اپنی تحریروں میں صدیوں کے سفر کے ساتھ محفوظ کرتی رہیں، اسی خطے کی سیاسی تقسیم نے انہیں دو ملکوں کے درمیان بانٹ دیا مگر ان کی ادبی شناخت کسی سرحد کی پابند نہ رہی۔
پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے مہینے میں، آج 21 اگست کو قرۃ العین حیدر کی 19ویں برسی کے موقع پر، یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ عینی آپا تھیں تو پاکستانی۔ ان کی زندگی، ان کا ادب اور بالخصوص ’آگ کا دریا‘ آج بھی اس تہذیبی رشتے کی گواہی دیتا ہے جو سرحدوں سے کہیں بڑا تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













