گوگل نے پاکستانی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید تعلیمی ٹیکنالوجی تک رسائی آسان بنانے کے لیے ایک اہم پیشکش کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پیشکش کے تحت تمام اہل طلبہ کو گوگل اے آئی پلس کی ایک سالہ سبسکرپشن مفت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پاکستان میں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ’ڈیجیٹل پاسبان‘ متعارف کرائے گا
واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو جدید مصنوعی ذہانت کے ایسے وسائل فراہم کرنا ہے جن کی مدد سے وہ تحقیق، امتحانات کی تیاری، اسائنمنٹس اور تعلیمی منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کر سکیں۔
طلبہ کو 400 جی بی کلاوڈ اسٹوریج اور جدید سہولیات دستیاب ہوں گی
اس خصوصی پیشکش کے تحت اہل طلبہ کو 12 ماہ کے لیے 400 جی بی کلاوڈ اسٹوریج فراہم کی جائے گی، جسے گوگل ڈرائیو، جی میل اور گوگل فوٹوز کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے مختلف جدید ٹولز تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔ ان میں جیمنی کی زیادہ استعمال کی حد، جیمنی لائیو اور دیگر تعلیمی سہولیات شامل ہیں، جن کی مدد سے طلبہ اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ موضوعات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
امتحانات کی تیاری میں بھی مدد ملے گی
گوگل کی اس سہولت کو صرف سوالات کے جوابات حاصل کرنے تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے طلبہ کے تعلیمی سفر میں معاون کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
طلبہ اپنے لیکچر نوٹس، سلائیڈز، اسائنمنٹس اور دیگر تعلیمی مواد فراہم کرکے ان کی بنیاد پر مطالعاتی گائیڈز، مشقی سوالات، سوال نامے اور دیگر تعلیمی مواد تیار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح کردیا
اسی طرح اسٹڈی نوٹ بکس جیسی سہولیات کے ذریعے طلبہ اپنے کورس کے مواد کو منظم کر سکتے ہیں، طویل تحقیقی مواد کا خلاصہ تیار کر سکتے ہیں اور مشکل موضوعات کو مرحلہ وار سمجھنے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
جیمنی لائیو کے ذریعے براہ راست گفتگو
اس پیشکش میں جیمنی لائیو کی سہولت بھی شامل ہے، جس کے ذریعے طلبہ مصنوعی ذہانت سے براہِ راست صوتی گفتگو کر سکتے ہیں۔
یہ سہولت خاص طور پر ایسے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جو کسی پیچیدہ موضوع پر فوری وضاحت چاہتے ہیں یا کسی مسئلے کو گفتگو کے ذریعے سمجھنا چاہتے ہیں۔
کون سے طلبہ اس پیشکش کے اہل ہوں گے؟
گوگل کے مطابق اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے طالب علم کا کسی کالج یا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ طالب علم کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ طلبہ کو اپنی طالب علم حیثیت کی تصدیق بھی کرانا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے گوگل کی جانب سے طالب علم کی تصدیق کے نظام کا استعمال کیا جائے گا، جس کے تحت ضرورت پڑنے پر یونیورسٹی سے متعلق معلومات، طالب علم کارڈ یا دیگر تعلیمی دستاویزات فراہم کرنا پڑ سکتی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اس پیشکش کے لیے طلبہ کو اپنا ذاتی گوگل اکاؤنٹ استعمال کرنا ہوگا۔ یونیورسٹی یا تعلیمی ادارے کے سرکاری اکاؤنٹ پر یہ سہولت فعال نہیں ہوگی۔
مفت سہولت حاصل کرنے کی آخری تاریخ
اہل طلبہ اس پیشکش کو 31 دسمبر 2026 تک حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں گوگل کے مخصوص طالب علم صفحے پر جاکر رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ رجسٹریشن کے دوران ادائیگی کے لیے ایک فعال ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کی معلومات بھی طلب کی جا سکتی ہیں۔ تاہم مفت مدت کے دوران اس سہولت کی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
مفت مدت ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ طلبہ کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک سال کی مفت مدت ختم ہونے کے بعد سبسکرپشن باقاعدہ معاوضے والے منصوبے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں اگر طالب علم مزید سبسکرپشن جاری نہیں رکھنا چاہتا تو اسے مفت مدت ختم ہونے سے پہلے اپنا منصوبہ منسوخ کرنا ہوگا۔
گوگل کی یہ پیشکش پاکستانی طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ تحقیق، امتحانات کی تیاری، نوٹس کی تیاری اور تعلیمی منصوبوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر یہ سہولت طلبہ کے لیے خاصی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔













