پاکستان سمیت 12 ممالک کے وزرائے خارجہ نے شمال مغربی شام پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پاکستان، ترکیہ، الجزائر، انڈونیشیا، اردن، لبنان، ملائیشیا، موریطانیہ، فلسطین، قطر، سعودی عرب اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شمال مغربی شام میں ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے انتہائی تشویش ناک اور خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شامی فورسز کی دروزی اقلیت کیساتھ جنگ بندی، دمشق پر اسرائیلی حملہ، 3 جاں بحق، 34 زخمی
مشترکہ بیان میں شام کی سرزمین اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات شام میں سلامتی کی بحالی، قومی اداروں کی تعمیر نو اور کئی سالہ تنازع کے انسانی اثرات سے نمٹنے کی جاری کوششوں کو براہِ راست متاثر کررہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیاں کشیدگی میں مزید اضافے، علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری کو کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کر رہی ہیں۔
بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ شام کے خلاف جاری جارحیت کے معاملے پر واضح، مضبوط اور اصولی مؤقف اختیار کرے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: شام: ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملہ، القدس کے سینیئر کمانڈر رضا زاہدی سمیت 8 افراد شہید
وزرائے خارجہ نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے کا مکمل احترام یقینی بنانے اور اسرائیلی افواج کے ان علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا جہاں انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے، تاکہ مزید کشیدگی کو روکا اور خطے کے امن و استحکام کا تحفظ کیا جا سکے۔
مشترکہ بیان میں شام کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور سیاسی وحدت کے احترام کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان اصولوں کو کمزور کرنے کی ہر کوشش مسترد کی جاتی ہے۔














