پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں اننگز اور 103 رنز سے شکست کے بعد میزبان ٹیم کی ہر شعبے میں برتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کئی غلطیاں کیں اور انگلینڈ نے اسے مکمل طور پر آؤٹ کلاس کیا۔
ہیڈنگلے میں کھیلے گئے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے نئے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جہاں بابر اعظم کی غیر موجودگی میں کھیلنے والی قومی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 171 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ عبداللہ شفیق نے 61 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، تاہم اولی رابنسن اور جوش ٹنگ نے 5، 5 وکٹیں حاصل کرکے پاکستانی بیٹنگ کی کمر توڑ دی۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کی بدترین شکست
جواب میں انگلینڈ نے 409 رنز بنا کر پاکستان پر 238 رنز کی برتری حاصل کی۔ انگلینڈ کی جانب سے جارڈن کاکس نے 73، جو روٹ نے 66، ہیری بروک نے 91 اور ڈین لارنس نے 51 رنز بنائے۔ پاکستان کے علی عثمان نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، تاہم انگلینڈ کو بڑی برتری حاصل کرنے سے نہ روک سکے۔
238 رنز کے خسارے کے بعد پاکستان کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے دوسری اننگز میں بہتر کارکردگی دکھانا ضروری تھی، لیکن پوری ٹیم 37.3 اوورز میں صرف 135 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ محمد رضوان نے سب سے زیادہ 41 رنز بنائے، جبکہ شان مسعود نے 29 اور عبداللہ شفیق نے 15 رنز بنائے۔
پاکستان کی قیادت کرنے والے سلمان آغا نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ نے واقعی پاکستان کو آؤٹ پلے کیا اور ٹیم نے کئی غلطیاں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘: انگلینڈ کیخلاف پہلے ہی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کے کئی ان چاہے ریکارڈ
انہوں نے کہا، ‘انگلینڈ نے ہمیں آؤٹ پلے کیا اور یہ کہنا بالکل درست ہے۔ ہم نے بہت سی غلطیاں کیں۔ ہماری بیٹنگ ان حالات میں تجربہ کار نہیں، لیکن ہمیں مستقل مزاجی دکھانا ہوگی۔’
سلمان آغا نے دونوں اننگز میں بالترتیب 21 اور 4 رنز بنائے۔ انہوں نے پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ گیند میں نمی موجود تھی، لیکن قومی باؤلرز ان حالات سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس ایسے باؤلرز موجود ہیں جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر سکتے ہیں، تاہم محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد نے حالیہ دورۂ ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی، اس لیے وہ ان پر اب بھی اعتماد رکھتے ہیں۔
سلمان آغا نے کہا، ‘جب ہم نے باؤلنگ کی تو گیند میں نمی موجود تھی، لیکن ہمارے باؤلرز اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔’
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے، پاکستان کے کوچ کی تصدیق
انہوں نے مزید کہا، ‘ہمارے پاس ایسے باؤلرز ہیں جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ان 3 فاسٹ باؤلرز نے ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور یہ حالات بھی ان کے لیے موزوں ہیں۔ مجھے اب بھی ان پر اعتماد ہے۔’
پاکستان کی شکست کے باوجود سلمان آغا نے عبداللہ شفیق اور علی عثمان کی کارکردگی کو سراہا۔ عبداللہ شفیق نے پہلی اننگز میں 61 رنز بنائے جبکہ علی عثمان نے بیٹنگ میں بھی 0 رنز بنائے اور باؤلنگ میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔
قومی کپتان نے کہا کہ ٹیم کو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اگلے میچ میں زیادہ مضبوط انداز میں واپسی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا، ‘ہمیں اپنی غلطیوں کو ختم کرنا ہوگا اور اگلے میچ میں زیادہ مضبوط ہوکر واپس آنا ہوگا۔ میں علی عثمان کی باؤلنگ سے بہت خوش ہوں کہ انہوں نے ان حالات میں جس طرح باؤلنگ کی۔ عبداللہ شفیق کی بیٹنگ سے بھی بہت خوش ہوں۔’
سلمان آغا نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم کے مستقل کپتان اور تجربہ کار بلے باز بابر اعظم اگلے ٹیسٹ میں واپس آئیں گے اور ان کی موجودگی پاکستان کی بیٹنگ کو مضبوط کرے گی۔
انہوں نے کہا، ‘امید ہے کہ بابر اگلے میچ میں واپس آئیں گے اور ان کی موجودگی ہماری بیٹنگ کو تقویت دے گی۔’
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 میچوں کی سیریز کا دوسرا ٹیسٹ 27 سے 31 اگست تک لارڈز میں کھیلا جائے گا۔














