وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے علاج اور طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے تمام سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے تاہم سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث انہیں بعد ازاں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی اسپتال منتقلی کا معاملہ : توہین عدالت ان لوگوں نے کی جنہوں نے مجمع نہ لگانے کا عدالتی حکم نہیں مانا، طلال چوہدری
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انتظامیہ، آئی جی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے تھے، علاقے کو گھیرے میں لیا گیا تھا اور اسپتال کو محفوظ بنایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل سے روانہ بھی ہوگئے تھے تاہم راستے میں سیکیورٹی اداروں نے صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا اور پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فیصلہ کیا کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اس لیے شفا انٹرنیشنل کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس نہیں دی جاسکتی۔
وفاقی وزیر کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز کو بھی پمز لایا گیا تاکہ ان کا طبی معائنہ کیا جاسکے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم ہیں اور ان کی منتقلی کے دوران ان کی جماعت کے کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں کی موجودگی سمیت مختلف عوامل کو بھی سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا گیا۔
ان سے سوال کیا گیا کہ اگر پمز محفوظ تھا تو شفا انٹرنیشنل اسپتال کو محفوظ کیوں نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ اس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ فیصلہ سیکیورٹی اداروں کا تھا اور اگر سیکیورٹی ادارے کسی عمارت کو محفوظ بنانے یا وہاں امن و امان برقرار رکھنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت پر تحفظات ظاہر کریں تو حکومت کو ان کی رائے کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا فیصلہ تھا۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ کسی بھی ہائی پروفائل شخصیت کی منتقلی کے وقت متبادل انتظامات رکھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق شفا انٹرنیشنل میں پولیس اور انتظامیہ کے تمام متعلقہ دستے موجود تھے اور وہاں طبی ٹیم بھی عمران خان کا معائنہ کرنے کے لیے موجود تھی۔
عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کئی گھنٹے انتظار کرنے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان وہاں موجود ہیں تاہم انہیں بعد میں اس بارے میں معلوم ہوا۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی پرائیویٹ اسپتال میں منتقلی کا عدالتی فیصلہ، نظر ثانی درخواست میں حکومت نے کیا اعتراضات اٹھائے؟
وفاقی وزیر نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آخری وقت میں اسپتال تبدیل کرنے کے علاوہ اس حکم کے تمام نکات پر مکمل طور پر عمل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ افراد پمز میں موجود تھے اور انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کیوں نہیں لے جایا گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی یا اس معاملے میں حکومت نے سیاسی مداخلت کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان کو پہلی بار علاج یا طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران عمران خان کو 6 مرتبہ طبی معائنے کے لیے پمز لایا جا چکا ہے۔














