ہالی ووڈ کے عظیم اداکار، کامیڈین اور فلم ساز چارلی چیپلن کی وفات کے بعد ان کے جسدِ خاکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ تاریخ کے حیران کن واقعات میں شمار ہوتا ہے۔

چارلی چیپلن 25 دسمبر 1977 کو 88 برس کی عمر میں سوئٹزرلینڈ میں انتقال کرگئے اور انہیں ان کے گھر کے قریب واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تاہم تدفین کے قریباً 2 ماہ بعد، یکم اور 2 مارچ 1978 کی درمیانی شب، 2 افراد نے ان کی قبر کھودی، تابوت نکالا اور جسدِ خاکی سمیت فرار ہوگئے۔

مزید پڑھیں:امیتابھ بچن ڈائیلاگز کو کیسے یاد کرتے تھے، عامر خان نے اندر کی بات بتادی
تابوت چوری کرنے والے دونوں افراد بے روزگار مکینک تھے۔ انہوں نے بعد ازاں چیپلن کے خاندان سے رابطہ کرکے ان کے جسدِ خاکی کی واپسی کے بدلے 6 لاکھ امریکی ڈالر تاوان طلب کیا۔
تاہم اغوا کاروں کا منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا۔ پولیس نے تحقیقات جاری رکھیں اور قریباً 76 دن بعد، 16 مئی 1978 کو چیپلن کا تابوت ایک مکئی کے کھیت سے برآمد کرلیا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ ملزمان اس جگہ کو بھی درست طور پر یاد نہیں رکھ سکے جہاں انہوں نے تابوت دفن کیا تھا، چنانچہ پولیس نے میٹل ڈیٹیکٹر کی مدد سے تابوت تلاش کیا۔
واردات میں ملوث دونوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ عدالت نے مرکزی ملزم کو ساڑھے 4 سال قید جبکہ دوسرے ملزم کو 18 ماہ کی معطل سزا سنائی۔
تابوت برآمد ہونے کے بعد چیپلن کے خاندان نے ان کی قبر کو مزید محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا۔ تابوت کو قریباً دو میٹر گہرائی میں دوبارہ دفن کیا گیا اور قبر کو کنکریٹ سے مضبوط کردیا گیا تاکہ آئندہ ایسی واردات کا امکان نہ رہے۔

چارلی چیپلن نے خاموش فلموں کے دور میں اپنے منفرد کردار کے ذریعے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ ان کی مزاحیہ اداکاری آج بھی فلمی تاریخ کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، لیکن ان کی وفات کے بعد قبر سے تابوت چوری ہونے کا واقعہ ان کی زندگی سے جڑی عجیب و غریب داستانوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں:وہ 15 اداکار جنہوں نے مخالف جنس کے کردار نبھا کر داد پائی
دلچسپ بات یہ ہے کہ چیپلن کی قبر سے تابوت چوری ہونے کی یہ پراسرار داستان بعد میں فلمی پردے پر بھی پہنچ گئی۔ فرانسیسی ہدایت کار ژیویئر بووا نے 2014 میں اس واقعے سے متاثر ہوکر فلم ’دی پرائس آف فیم‘ (لا رانسوں دو لا گلوار) بنائی، جس میں بینوا پُول وُرد، روشڈی زیم اور کیارا ماستروئیانی نے اداکاری کی۔ فلم میں چیپلن کی بیٹی کو اغوا کاروں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے اور ان کے ساتھ نرمی و سخاوت کا مظاہرہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
یہ واقعہ یوں بھی عجیب اتفاق رکھتا ہے کہ جس فنکار نے اپنی فلموں میں المیے اور مزاح کو ایک ساتھ پیش کیا، اس کی موت کے بعد پیش آنے والی یہ حقیقی داستان بھی بعد میں ایک فلم کی کہانی بن گئی۔














