بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد اور مبینہ توہین عدالت کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی و قانونی بحث کو جنم دے دیا ہے، تاہم معاملے کے ایک مختلف پہلو کے مطابق اگر عدالتی حکم کا مقصد قیدی کی صحت کا معائنہ، علاج اور سیکیورٹی یقینی بنانا تھا اور یہ تمام تقاضے پورے کردیے گئے تو پھر توہین عدالت کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے؟ اگر صحت تسلی بخش نکلی تو کیا صحت مند ہونا بھی توہین عدالت تصور کیا جائے گا؟
ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ قیدی کا طبی معائنہ کیا گیا، سیکیورٹی یقینی بنائی گئی، شفا اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود رہے اور قیدی کی صحت و علاج یقینی بنانے کے لیے عدالتی حکم کا بنیادی مقصد پورا کیا گیا۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ عدالتی حکم کو پاکستان تحریک انصاف کی ہر سیاسی خواہش کے مترادف سمجھنا درست نہیں، کیونکہ عدالتی حکم کا مقصد صحت اور علاج یقینی بنانا تھا، سیاسی مطالبات پورے کرنا نہیں۔
رپورٹ میں معاملے کو سیاسی رنگ دینے پر بھی سوال اٹھایا گیا اور کہا گیا کہ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ کوئی نیا بیانیہ کیوں نہیں ملا۔ پی ٹی آئی کو صحت مند خان سے زیادہ ایک نیا شوشہ، نئی سرخی اور سوشل میڈیا کے لیے نیا تماشا درکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق توہین انصاف پر گرفت ہونی چاہیے، توہین تحریک انصاف پر شور نہیں مچانا چاہیے۔ اس معاملے کو قانونی یا عدالتی توہین کے بجائے پی ٹی آئی کی سیاسی خواہش پوری نہ ہونے کے ماتم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں عدالت کے سامنے ایک اہم قانونی و انتظامی پہلو بھی رکھا گیا ہے کہ کسی حکم کے عملی نفاذ سے قبل حکومت کا مؤقف، سیکیورٹی اور سرکاری و نجی اسپتال کے انتظامی پہلو مکمل طور پر سننا ضروری ہے۔ مبہم یا ناقابل عمل احکامات بعد ازاں ان کے نفاذ سے متعلق تنازعات پیدا کرسکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر سیکیورٹی ہدایات یا عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس معاملے کا بھی قانون کے مطابق جائزہ لیا جانا چاہیے، کیونکہ قانون صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے لیے بھی برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہر سیاسی خواہش کو عدالتی حکم بنا کر منوانے کی کوشش بند ہونی چاہیے اور احتساب سے بچنے کے لیے جوڈیشل این آر او نہیں ملے گا۔
رپورٹ میں دو نہیں ایک پاکستان کے اصول پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی صورت دو پاکستان نہیں ہونے چاہییں، ایک اشرافیہ کے لیے اور دوسرا عام پاکستانی کے لیے۔ اگر قانون ایک ہے تو اس کا معیار بھی ایک ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں عمران خان کے ماضی کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر وہ ہمیشہ برابری قانون کی بات کرتے رہے ہیں تو یہی اصول ان پر لاگو ہونے پر اعتراض کیسا؟ جس اصول کی تلوار دوسروں کے لیے اٹھائی تھی، اب اسی اصول کا سامنا خود بھی کرنا ہوگا، کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔













