وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کے لیے حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، کسانوں کو سہولیات کی فراہمی، زرعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور غذائی تحفظ سمیت مختلف امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں: فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سرٹیفائیڈ کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کے لیے جامع پلان مرتب کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔
وزیراعظم نے چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلبا و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس چین میں زرعی شعبے کی تربیت کے لیے جانے والے طلباء و طالبات کے انتخاب میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔
این اے آر سی کی اصلاحات اور نئے ماسٹر پلان کی منظوری
وزیراعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے۔
اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کے لیے اقدامات پر عملدرآمد میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کے لیے ایک جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 27-2026 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔
منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعدادِ کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔
اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔
زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔
پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔ متعدد قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے۔
آرگینک زراعت کے فروغ پر بھی بریفنگ
اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کے لیے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کے لیے بھی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے۔
این اے آر سی کو 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کرنے کا فیصلہ
اجلاس کو این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے۔
نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کے لیے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کے لیے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیراعظم کے کوارڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیراعظم محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔













