آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک دلچسپ سیاسی اتفاق سامنے آیا ہے، جہاں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ایک ہی نام کی تین خواتین کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں آمد نے سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
’مریم‘ نام کی یہ تینوں خواتین مختلف سیاسی پس منظر اور ذمہ داریوں کے ساتھ مسلم لیگ ن کے سیاسی سفر کا حصہ رہی ہیں اور اب آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے نمایاں ہونے جارہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر پولنگ 24 اگست کو، امیدواروں کے نام بھی سامنے آگئے
ان میں مریم جاوید براہ راست عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے پہلے ہی اسمبلی کا حصہ بن چکی ہیں، جبکہ مریم کشمیری اور مریم ادریس خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی ہیں۔

یہ اتفاق اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف آزاد کشمیر میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب کے مرحلے میں پارٹی کی مشاورتی سرگرمیوں اور امیدوار خواتین کے انٹرویوز کے عمل میں بھی شامل رہی ہیں۔
یوں ایک طرف مریم نواز شریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت میں خواتین کے سیاسی کردار کی نمائندگی کرتی ہیں تو دوسری جانب آزاد کشمیر اسمبلی میں ’مریم‘ نام کی تین خواتین کا پہنچنا بھی جماعت کے اندر خواتین کی سیاسی موجودگی کی ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم کشمیری، مریم ادریس، سحرش قمر اور رفعت عابد کے نام سامنے آئے، تاہم رفعت عابد اور پیپلز پارٹی کی امیدوار زوبیہ خورشید راجا کے درمیان مقابلہ برابر ہوگیا۔ برابر ووٹ ملنے پر قرعہ اندازی کی گئی، جس میں کامیابی پیپلز پارٹی کی امیدوار زوبیہ خورشید راجا کے حصے میں آئی۔
مریم جاوید براہ راست الیکشن جیت کر اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب
ان تینوں خواتین میں مریم جاوید وہ نام ہیں جنہوں نے مخصوص نشست کے بجائے براہ راست عام انتخابات کے میدان میں اتر کر کامیابی حاصل کی۔
مریم جاوید نے مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقہ ایل اے 37 جموں 4 سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا اور کامیاب ہوئیں۔
ان کی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کی جانب سے حلقے میں بھرپور سیاسی سرگرمیاں کی گئیں جبکہ پارٹی کے مرکزی پلیٹ فارم سے بھی ان کی انتخابی مہم کو نمایاں کیا گیا۔
یوں مریم جاوید نے براہ راست عوامی مینڈیٹ حاصل کرکے نئی اسمبلی میں اپنی جگہ بنائی، جو انہیں دیگر دونوں ’مریم‘ سے مختلف بناتا ہے۔
مریم کشمیری، خواتین ونگ کی متحرک قیادت
دوسرا نمایاں نام مریم کشمیری کا ہے، جو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے شعبہ خواتین کی قیادت کے حوالے سے پہلے ہی ایک معروف سیاسی نام ہیں۔
مریم کشمیری اس وقت مسلم لیگ ن خواتین ونگ آزاد کشمیر کی صدر ہیں۔ پارٹی کی جانب سے انہیں خواتین کو متحرک کرنے، تنظیمی سطح پر جماعت کو مضبوط بنانے اور انتخابی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے اہم ذمہ داریاں دی جاتی رہی ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران بھی مریم کشمیری مختلف خواتین کنونشنز اور سیاسی اجتماعات میں فعال نظر آئیں اور جماعت کی کامیابی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
ان کی سیاست کا ایک اہم پہلو مسلم لیگ ن کے خواتین ونگ کی تنظیم سازی اور خواتین کو پارٹی کے سیاسی ڈھانچے میں زیادہ مؤثر کردار دینے سے جڑا ہوا ہے۔
مریم کشمیری کا تعلق آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ہے، اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کے قیام سے لے کر اب تک جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں۔
مریم ادریس، پارٹی سرگرمیوں سے مخصوص نشست تک
تیسرا نام مریم ادریس کا ہے، جو مسلم لیگ ن کے سیاسی و تنظیمی حلقوں میں فعال رہی ہیں۔
مریم ادریس کا تعلق میرپور کے حلقہ چکسواری سے ہے، اور ان کا شمار مسلم لیگ ن کی متحرک خواتین میں ہوتا ہے۔
مریم ادریس کا نام آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کی خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے ابتدائی مرحلے ہی سے زیر غور آنے والے امیدواروں میں شامل تھا۔

مسلم لیگ ن کی قیادت نے مخصوص نشستوں کے لیے کئی خواتین کے انٹرویوز کیے، جن میں مریم ادریس اور مریم کشمیری بھی شامل تھیں۔
اس مرحلے میں مریم نواز شریف کی شمولیت بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما ہونے کے ساتھ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھی ہیں اور پارٹی کے اندر خواتین کی سیاسی نمائندگی کے معاملات میں نمایاں کردار رکھتی ہیں۔
بعد ازاں پارٹی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں مریم ادریس کو خواتین کی مخصوص نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا، جس کے بعد وہ بھی ان خواتین میں شامل ہوگئیں جنہیں مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی نئی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی کے لیے آگے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تین مریم، تین مختلف سیاسی راستے
آزاد کشمیر اسمبلی میں ’مریم‘ نام کی تین خواتین کی موجودگی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ تینوں کا اسمبلی تک پہنچنے کا راستہ ایک جیسا نہیں۔
مریم جاوید نے براہ راست انتخاب لڑ کر عوامی مینڈیٹ حاصل کیا، مریم کشمیری نے پارٹی کے خواتین ونگ کی تنظیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں اپنا کردار نمایاں کیا، جبکہ مریم ادریس بھی پارٹی کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ رہتے ہوئے مخصوص نشست کے لیے نامزد ہوئی ہیں۔
مسلم لیگ ن کی اسمبلی میں خواتین کی نمائندگی
آزاد کشمیر کے حالیہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے مجموعی طور پر مضبوط پوزیشن حاصل کی اور اب حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔
مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں میں سے 6 پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ خواتین کی 2 نشستیں پیپلز پارٹی جیتنے میں کامیاب رہی۔
اب آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی 31 نشستیں ہوگئی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی 14 ارکان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، اس کے علاوہ غربی باغ سے جیتنے والے ساجد عباسی مسلم لیگ ن کے اتحادی بن گئے ہیں۔
’تین مریم‘ کا اتفاق سیاسی طور پر کیوں اہم ہے؟
آزاد کشمیر کی سیاست میں خواتین کی نمائندگی ہمیشہ ایک اہم موضوع رہی ہے۔ ایسے میں ایک ہی سیاسی جماعت سے ایک ہی نام کی تین خواتین کا اسمبلی تک پہنچنا ایک منفرد سیاسی اتفاق ضرور ہے۔
اس اتفاق کو مسلم لیگ ن کی وسیع تر سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو مریم نواز شریف کی مرکزی قیادت میں موجودگی بھی اس تصویر کا ایک اہم پہلو بن جاتی ہے۔

ایک جانب وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور پنجاب کی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے جماعت کی سیاست میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، جبکہ دوسری جانب آزاد کشمیر میں خواتین امیدواروں کے انٹرویوز کے عمل میں ان کی شرکت نے بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی کے اس مرحلے کو اہم بنا دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی اسمبلی میں یہ تینوں ’مریم‘ قانون سازی اور عوامی مسائل کے حوالے سے کس نوعیت کا کردار ادا کرتی ہیں اور مسلم لیگ ن کی حکومت میں انہیں کیا ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں: سردار ساجد اقبال نے غربی باغ کا ناقابل تسخیر قلعہ آخر کیسے فتح کیا؟
یوں آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں ’مریم‘ محض ایک نام نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کی سیاست میں خواتین کی مختلف سطحوں پر موجودگی کی ایک دلچسپ تصویر بن کر سامنے آیا ہے۔













