وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل تندرست ہیں، اور پی ٹی آئی کو جوڈیشل این آر او نہیں ملے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان کو اسپتال لانے کی ضرورت ہو تو انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے اسپتال لایا جاتا ہے، یہ لوگ ہمدردی کا کارڈ کھیلنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت تسلی بخش نکلی تو کیا یہ بھی توہین عدالت ہے؟ اہم سوال اٹھ گیا
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ عدالتیں بدل چکی ہیں، یہ نئی عدلیہ ہے جو جوڈیشل این آر او دینے کے لیے نہیں ہے۔ یہ اپنی خواہشات کا اظہار کرتے رہیں، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
طلال چوہدری نے کہاکہ عمران خان کی طبیعت ٹھیک ہے اور وہ تندرست ہیں۔ عمران خان کی بہن اس بہانے سے کوئی این آر او لینا چاہتی ہیں تو یہ پھر ان کی اپنی خواہش ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ توہین عدالت تو ان لوگوں نے کی ہے جو اسپتال کے باہر جمع ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جیل میں عمران خان کا تین بار چیک اپ ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم حکومت نے سابق وزیراعظم کا پمز اسپتال میں چیک اپ کرانے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کردیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔ جبکہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی گئی ہے۔














