پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے خصوصی افراد کو ہنگامی حالات میں فوری مدد فراہم کرنے کے لیے پبلک سیفٹی ایپ میں خصوصی فیچرز متعارف کرائے ہیں۔ اس ایپ کے صارفین کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس سے استفادہ کررہے ہیں۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی ڈپٹی چیف سافٹ ویئر افسر سفیر عباس کے مطابق خصوصی افراد کے لیے ایپ میں ایسے فیچرز شامل کیے گئے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی ضرورت کے وقت براہِ راست سیف سٹی کے کنٹرول اینڈ کمانڈ سینٹر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب کی 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ نابینا افراد موبائل فون کے ٹاک بیک فیچر کے ذریعے پبلک سیفٹی ایپ استعمال کر سکتے ہیں۔ ایپ پر ڈبل ٹیپ کرنے سے ان کی کال سیف سٹی کے کنٹرول روم سے منسلک ہو جاتی ہے، جبکہ صارف کی تفصیلات اور موجودہ لوکیشن بھی کنٹرول روم میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس معلومات کی مدد سے پولیس کو فوری طور پر موقع پر روانہ کیا جا سکتا ہے۔

سماعت اور گویائی سے محروم افراد کے لیے بھی پبلک سیفٹی ایپ میں ویڈیو کال کی سہولت موجود ہے۔ سفیر عباس کے مطابق خصوصی افراد کی شناخت رجسٹریشن کے دوران درج کی جاتی ہے، جس کے بعد ان کی ہوم اسکرین پر ویڈیو کال کا آپشن دستیاب ہوتا ہے۔ ویڈیو کال کے ذریعے سیف سٹی کے تربیت یافتہ افسران سائن لینگویج میں متاثرہ شخص سے بات کرتے ہیں، اس کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور متعلقہ ادارے کو فوری مدد کے لیے متحرک کرتے ہیں۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پولیس کمیونیکیشن افسر صدف ظہور نے بتایا کہ خصوصی افراد سے رابطے کے لیے متعلقہ عملے کو سائن لینگویج کی تربیت دی گئی ہے۔ اگر کوئی بچہ گم ہو جائے اور وہ بولنے یا سننے سے قاصر ہو تو ویڈیو کال کے ذریعے سائن لینگویج میں اس سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ بچے سے اس کے گھر، والدین اور دیگر ضروری معلومات معلوم کرکے پولیس کو موقع پر روانہ کیا جاتا ہے۔

صدف ظہور نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں ایک بچہ لاوارث حالت میں ملا، جس سے بات کرنے کی کوشش پر معلوم ہوا کہ وہ بولنے اور سننے سے قاصر ہے۔

سیف سٹی کے اہلکاروں نے سائن لینگویج کے ذریعے بچے سے اس کے گھر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بچے نے اشاروں کے ذریعے بتایا کہ اس کا گھر ایسے علاقے میں ہے جہاں پہاڑ موجود ہیں۔

اس کے بعد اہلکاروں نے بچے کو مختلف مقامات کی تصاویر دکھائیں تاکہ اس علاقے کی شناخت کی جا سکے۔ بچے نے تصاویر میں ایک مقام کی نشاندہی کی، جس سے معلوم ہوا کہ وہ پشاور کے ایک علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ سیف سٹی حکام نے فوری طور پر پشاور پولیس سے رابطہ کیا اور پولیس کو وہاں روانہ کیا گیا۔ بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ بچے کی رہائش واقعی اسی علاقے میں تھی۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ سائن لینگویج اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے ایسے افراد کی مدد بھی ممکن ہے جو عام طریقے سے اپنی بات دوسروں تک نہیں پہنچا سکتے۔

سفیر عباس کے مطابق حال ہی میں ایک خصوصی فرد نے موٹروے پر گاڑی خراب ہونے کے باعث پبلک سیفٹی ایپ کے ذریعے سیف سٹی سے رابطہ کیا۔ متاثرہ شخص نے سائن لینگویج کے ذریعے اپنا مسئلہ بتایا، جبکہ ایپ کے ذریعے اس کی لوکیشن بھی فوری طور پر معلوم ہو گئی۔ سیف سٹی نے موٹروے پولیس کو اطلاع دی، جس نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ شخص کی مدد کی اور اس کی گاڑی کا مسئلہ حل کیا۔

حکام کے مطابق ایسے کیسز روزانہ کی بنیاد پر سیف سٹی کو موصول ہوتے ہیں۔ کسی خصوصی فرد کو راستے میں مدد کی ضرورت ہو، وہ گم ہو جائے یا کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرے، پبلک سیفٹی ایپ کے ذریعے اس کی بات سمجھ کر متعلقہ ادارے تک فوری طور پر پہنچائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب سیف سٹی ایپ کے نئے فیچر پر بحث اور تشویش، اصل وجہ کیا ہے؟

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے اردگرد کوئی ایسا خصوصی فرد موجود ہے جو عام انداز میں اپنی بات مؤثر طور پر بیان نہیں کر سکتا تو اسے پبلک سیفٹی ایپ کے خصوصی فیچرز سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگاہ کیا جائے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تمام شہریوں کو یکساں اور بروقت سہولیات فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے اقدامات جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp