شدید برفباری اور تیز ہوائیں، ڈاکٹر اسما مشتاق کی میت کی منتقلی کا ریسکیو آپریشن مؤخر

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قراقرم کے اسپانٹک پہاڑ پر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کیمپ تھری سے بیس کیمپ منتقل کرنے کا ریسکیو آپریشن شدید موسم کے باعث مؤخر کردیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ لاش کی منتقلی کے لیے ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز کو کیمپ تھری پہنچ کر لاش بیس کیمپ تک لانی تھی، تاہم شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث ریسکیو ٹیم کیمپ تھری کے قریب پہنچنے کے بعد واپس کیمپ ٹو لوٹ آئی۔

عطا تارڑ کے مطابق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاش کی واپسی کے لیے ہیلی کاپٹر کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ گلگت بلتستان حکومت اور ایف سی این اے کے درمیان بھی رابطہ اور ضروری انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاش کی منتقلی کے لیے متبادل انتظامات بھی موجود ہیں اور موجودہ موسمی حالات میں جو کچھ ممکن ہوا، وہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان: سپانٹک چوٹی سر کرنے کے بعد جاں بحق ہونے والی خاتون کوہ پیما اسما مشتاق کون تھیں؟

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو ریسکیو آپریشن اور تازہ صورت حال سے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پر نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی مشاورت

بھارت میں اسکول کی عمارت نہ بننے پر بچوں کا احتجاج، کلاسز میں جانے سے انکار

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو پھر ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا سخت ردعمل

ایکنک نے تربیلا پانچویں توسیعی منصوبے سمیت اربوں روپے کی ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دے دی

ویڈیو

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

میدان میں حریف کھلاڑی کو تھپڑ مارنے پر سپر اسٹار لیونل میسی پر جرمانہ عائد

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟