امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اپنا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو دائرے میں نمایاں کرکے ’نیا امریکی علاقہ‘ لکھا گیا تھا۔ ٹرمپ نے 18 اگست کو بھی یہی نقشہ شیئر کیا تھا۔
Trump vs Iran over Hormuz
Trump Again Shares Map Labelling Hormuz 'New US Territory'
Iran Says Hormuz Won't Open 'Until US Corrects Its Behaviour' https://t.co/zJeirHzBRU
— TIMES NOW (@TimesNow) August 23, 2026
امریکی صدر نے اس سے قبل 15 اگست کو نیویارک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکا کو آبنائے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھیں۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان کیا اور جہازوں کے لیے اجازت اور ٹرانزٹ فیس کی شرط عائد کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز امریکی دعوؤں کے باوجود بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکا اپنا رویہ درست نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔
رضائی نے امریکا کی معاشی پابندیوں میں تعاون کرنے والے ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران انہیں دشمن تصور کرے گا اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
🚨US President Donald Trump has again shared an image on Truth Social describing the strategically vital Strait of Hormuz as “NEW US Territory”.
The post comes as Iran maintains that the waterway is closed and will remain so unless Washington changes its approach.#Trump #Iran… pic.twitter.com/Rztpt3gwta
— Moneycontrol (@moneycontrolcom) August 23, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اب تک صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اگر واشنگٹن نے ایرانی معیشت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو خطے اور دیگر مقامات پر موجود امریکی تیل و معاشی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورت میں ایران کا ردعمل ’’زلزلے‘‘ جیسا ہوگا۔














