جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شمالی کوریا روس کو مزید فوجی دستے بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم فی الحال ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے یہ ظاہر ہو کہ نئی فوجی تعیناتی فوری طور پر ہونے والی ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا حکم
رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا روس کی مدد کے لیے مزید فوجی بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
زیلنسکی نے رواں ماہ دعویٰ کیا تھا کہ 30 ہزار سے 50 ہزار شمالی کوریائی فوجی روس بھیجے جا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کا ذریعہ نہیں بتایا تھا۔
North Korea reportedly sends around 8,500 more soldiers to Russia, including some 400 drone operators, according to senior Ukrainian intelligence official as President Zelenskyy says North Korean government plans to deploy up to 50,000 additional troops pic.twitter.com/jghYkfYpje
— TRT World Now (@TRTWorldNow) August 22, 2026
شمالی کوریا کی رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے 19 اگست کو اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی جانب سے روس کے ساتھ فوجی تعاون بدستور جاری ہے۔
مزید پڑھیں:جاپانی وزیر دفاع کا متنازع مزار کا دورہ، چین اور جنوبی کوریا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا پہلے ہی روس کو توپ خانے کے ایک کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ گولے اور کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کر چکا ہے، جبکہ شمالی کوریا کے فوجی بھی روس کے علاقے کرسک میں تعینات رہ چکے ہیں۔
روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون میں 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے 2024 میں باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔














