راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں شادی شدہ خاتون حنا جاوید کی مبینہ قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخم کے نشانات پائے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 45 سالہ حنا جاوید کے جسم پر مختلف نوعیت کے زخموں کے نشانات موجود تھے جبکہ ان کے پیریکارڈیم (دل کے گرد موجود جھلی) میں خون جمع تھا۔
راولپنڈی میں قتل کی گئی حنا جاوید کی پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔
45 سال حناء جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر زخم کے نشان موجود تھے، دل کے گرد خون سے بھرا ہوا تھا، رپورٹ pic.twitter.com/zECHhdYN4Q
— Aamir Saeed Abbasi (@AmirSaeedAbbasi) August 24, 2026
حنا جاوید کی موت کے معاملے پر آصفہ بھٹو زرداری، شیری رحمان، ماہرہ خان اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی فوری، شفاف اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
عاطف خٹک کا کہنا تھا کہ جب نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ آیا تو ایک جج نے فیصلے میں لکھا کہ یہ قتل اسلامی تعلیمات کے خلاف ’لیونگ ریلیشن‘ کی وجہ سے ہوا۔اب حنا جاوید کو اس کے اپنے اسلامی شوہر نے اپنے ہی گھر میں بے دردی سے قتل کیا ہے۔ اب اس کا کیا جواز ہے؟
جب نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ آیا تو ایک جج نے فیصلے میں لکھا کہ یہ قتل اسلامی تعلیمات کے خلاف ’’لیونگ ریلیشن‘‘ کی وجہ سے ہوا۔
اب حنا جاوید کو اس کے اپنے اسلامی شوہر نے اپنے ہی گھر میں بے دردی سے قتل کیا ہے۔ اب اس کا کیا جواز ہے؟
بیوی کے ہاتھ باندھ کر، گلے میں بجلی کا تار ڈال…
— Aatif Khattak (@MalakAatifKhan) August 24, 2026
شبیر ڈار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے قاتل شوہر فیصل اصغر کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ’سائیکو پیتھ‘ کہنا انصاف کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے کیونکہ اس وقت ملزم کو نفسیاتی یا ذہنی مریض ہی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حنا جاوید کے لیے ضرور آواز اٹھائیں، مگر الفاظ کے انتخاب میں بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے قاتل شوہر فیصل اصغر کو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر “سائیکو پیتھ” کہنا انصاف کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ اس وقت ملزم کو نفسیاتی یا ذہنی مریض ہی ثابت کرنے کی…
— Shabbir Dar (@ShabbirDar5) August 24, 2026
اسرار احمد لکھتے ہیں کہ حنا جاوید کا قتل کسی طور پر اسلام آباد میں نہایت ہی سفاکی و بے دردی سے قتل ہونے والی نور مقدم قتل سے کم ہیت کا نہیں ہے، دونوں کیسز میں ایک بات مشترک کے قاتل جرم کرنے بعد خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کر رہے۔
حنا جاوید کا قتل کسی طور پر اسلام آباد میں نہایت ہی سفاکی و بے دردی سے قتل ہونے والی نور مقدم قتل سے کم ہیت کا نہیں ہے
دونوں کیسز میں ایک بات مشترک کے قاتل جرم کرنے بعد خود کو نفسیاتی مریض ظاہر کر رہے pic.twitter.com/DTWH3JcQFa
— Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) August 24, 2026
سوشل میڈیا پر حنا جاوید کے شوہر کی ایک مبینہ ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں وہ لیکچر کے دوران شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کے قتل کی مختلف مثالیں دیتے اور طلبہ سے سوالات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ویڈیو میں فیصل اصغر کو مبینہ طور پر کارپوریٹ بزنس کمیونیکیشن کی کلاس کے دوران ایک طالبہ سے سوال کرتے سنا جاسکتا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو گولی مار دے تو اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ایسا شوہر بہت برا انسان ہوگا۔
ویڈیو میں مزید مبینہ طور پر فیصل اصغر طالبہ سے سوال کرتے ہیں کہ اگر بیوی کا کسی کے ساتھ تعلق ہو اور وہ شوہر کو دولت کے لیے قتل کرنا چاہتی ہو تو کیا ہوگا؟ طالبہ جواب دیتی ہے کہ ضروری نہیں کہ بیوی اپنے شوہر کو قتل کرنا چاہتی ہو۔
حنا جاوید قتل کیس!
مرکزی ملزم فیصل اصغر جسکو خود تربیت کی ضرورت ہے وہ NUST اور AirUniversity میں نوجوان نسل کو تعلیم دیتا رہا اور انکی ذہن سازی کرتا رہا
موصوف اپنے لیکچرز کے دوران شوہروں کے ہاتھوں بیویوں کو قتل کرنے کی مثالیں بھی دیتا رہا ہے، ملزم کارپوریٹ بزنس کمیونیکیشن کلاس…
— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) August 24, 2026
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف سوالات اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کے قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم فیصل اصغر خود تربیت کا محتاج دکھائی دیتا ہے، جو ماضی میں NUST اور ایئر یونیورسٹی میں نوجوانوں کو تعلیم اور ذہنی تربیت فراہم کرتا رہا۔
مسلم لیگ ن رہنما حنا پرویز بٹ نے کہا کہ راولپنڈی میں حنا جاوید کے دردناک قتل نے دل دہلا دیا ہے۔ ہماری پڑھی لکھی بیٹیاں جس درندگی کا شکار ہو رہی ہیں، اسے سن کر اور دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا وعدہ ہے کہ حنا جاوید اور ان کے والدین کو بہت جلد انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس بہیمانہ قتل میں جو بھی ملوث پایا گیا اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلوائی جائے گی۔ انصاف ہوگا، ہر صورت ہوگا۔
راولپنڈی میں حنا جاوید کے دردناک قتل نے دل دہلا دیا ہے۔ ہماری پڑھی لکھی بیٹیاں جس درندگی کا شکار ہو رہی ہیں، اسے سن کر اور دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔میرا وعدہ ہے کہ حنا جاوید اور ان کے والدین کو بہت جلد انصاف فراہم کیا جائے گا۔ پولیس متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس…
— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) August 23, 2026
واضح رہے کہ حنا جاوید کی لاش 21 اگست کی صبح راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات پولیس کی جانب سے جاری ہیں جبکہ مقدمے میں نامزد افراد سے تفتیش بھی کی جارہی ہے۔
حنا جاوید نے نومبر 2025 میں ریٹائرڈ کرنل اصغر علی فیاض کے بیٹے فیصل اصغر سے شادی کی تھی۔














