جدید نظام پانی نہ بچا سکا تو بھارت کو صدیوں پرانے آبی نظام یاد آگئے

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، زیر زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر اور موسمیاتی تبدیلی کے دباؤ نے بھارت کو ایک ایسے حل کی طرف دوبارہ دیکھنے پر مجبور کردیا ہے جسے جدید دور میں بڑی حد تک فراموش کردیا گیا تھا جو ہے صدیوں پرانا مقامی آبی نظام۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی دہشگردی شروع، دریائے چناب میں پانی غیر معمولی طور پر کم ہوگیا

راجستھان کے شہر الور میں واقع موسی رانی ساگر نامی سیڑھی دار کنواں اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ تقریباً 2 صدی قبل تعمیر کیے گئے اس آبی ذخیرے میں کچھ عرصہ پہلے تک آلودگی اور پانی کی غیر مستقل سطح ایک بڑا مسئلہ تھی لیکن بحالی کے بعد یہاں پانی کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔ سنہ 2025 میں پانی 30 سال سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ فٹ پاتھ تک پہنچا۔

یہ تبدیلی بھارت میں کسی ایک تاریخی مقام کی بحالی کی کہانی نہیں بلکہ ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب ملک کو پانی کے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ بھارت دنیا کی تقریباً 18 فیصد آبادی کا گھر ہے مگر اس کے پاس دنیا کے میٹھے پانی کے وسائل کا صرف تقریباً 4 فیصد حصہ ہے جبکہ دیہی علاقوں میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے لیے زیر زمین پانی پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔

جدید نظام کے ساتھ پرانے طریقوں کی واپسی

بھارت کے مختلف علاقوں میں باوری، جوہڑ، کنڈ، ٹانکا اور نادی جیسے روایتی آبی ڈھانچے دوبارہ زیر بحث آ رہے ہیں۔ ان سب کی ساخت مختلف ہے لیکن بنیادی مقصد ایک ہی ہے کہ بارش کے پانی کو تیزی سے بہہ جانے سے روکنا اور اسے زمین میں جذب ہونے کا وقت دینا تاکہ زیر زمین پانی کے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔

سیڑھی دار کنویں یا باولیاں ان نظاموں میں سب سے نمایاں ہیں۔ ایسے ہزاروں ڈھانچے بھارت کے مختلف علاقوں میں صدیوں کے دوران تعمیر کیے گئے تھے۔ وقت کے ساتھ پائپ لائنوں، پمپوں، نہروں اور بورویلز جیسے جدید نظاموں نے ان کی اہمیت کم کردی جس کے نتیجے میں بہت سے کنویں اور آبی ذخیرے غیر فعال یا آلودہ ہوگئے۔

اب پانی کی قلت نے ان پرانے نظاموں کی افادیت پر دوبارہ توجہ مرکوز کردی ہے۔

مسئلہ صرف پانی کی کمی نہیں

بھارت میں زیر زمین پانی کا مسئلہ صرف کم بارش تک محدود نہیں۔ کئی علاقوں میں زمین سے پانی نکالنے کی رفتار قدرتی طور پر پانی کے دوبارہ جمع ہونے کی رفتار سے کہیں زیادہ ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے صورتحال مزید مشکل بنا دی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مٹی کو زیادہ تیزی سے خشک کرتا ہے جبکہ شدید بارشوں کی صورت میں پانی کا بڑا حصہ زمین میں جذب ہونے کے بجائے سطح پر بہہ جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی علاقے میں بارش کا مجموعی حجم کم نہ بھی ہو تو زیر زمین پانی کے ذخائر پھر بھی کم ہوسکتے ہیں کیونکہ پانی زمین میں پہنچنے کے بجائے تیزی سے بہہ جاتا ہے۔

اسی صورتحال میں چھوٹے تالاب، جوہڑ اور زیر زمین آبی ڈھانچے اہم ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد پانی کو زیادہ دیر تک علاقے میں روکنا ہوتا ہے۔

ایک چھوٹے بند نے خشک کنوؤں میں پانی واپس پہنچا دیا

راجستھان کے الور میں جوہڑ نامی روایتی نظام کی بحالی نے بھی قابل ذکر نتائج دکھائے ہیں۔

جوہڑ بنیادی طور پر مٹی سے بنے چھوٹے بند یا ذخائر ہوتے ہیں جو مون سون کے پانی کو روک کر اسے آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہونے دیتے ہیں۔ ان کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ پانی صرف سطح پر ذخیرہ نہیں رہتا بلکہ قریبی زیرِ زمین آبی ذخائر کو بھی دوبارہ بھرنے میں مدد دیتا ہے۔

سنہ 1980 کی دہائی میں الور کے بعض علاقوں میں پانی کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ جنگلات کی کٹائی، کان کنی اور قدرتی آبی گزرگاہوں کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کے مسلسل اخراج نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔

مزید پڑھیے: بھارت کا پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ایٹمی آبی جنگ کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے، بلاول بھٹو

سال 1985 میں سماجی کارکن راجندر سنگھ نے مقامی لوگوں کی مدد سے جوہڑوں کی تعمیر اور بحالی کا کام شروع کیا۔ پہلے منصوبوں میں سے ایک کے بعد بارش کے موسم میں جوہڑ بھر گیا اور اسی علاقے کے وہ کنویں جن میں برسوں سے پانی نہیں تھا دوبارہ بھرنے لگے۔

اس کے بعد یہ طریقہ آس پاس کے علاقوں میں پھیلتا گیا۔ سنہ 1994 سے سنہ 2007 کے دوران الور میں ہزاروں پانی ذخیرہ کرنے والے ڈھانچے تعمیر یا بحال کیے گئے اور اس عمل کو بعد میں راجستھان کے سیکڑوں دیہات تک وسعت ملی۔

بورویل پانی نکالتا ہے، جوہڑ اسے واپس بھیجتا ہے

یہاں روایتی اور جدید نظام کے درمیان ایک اہم فرق سامنے آتا ہے۔

بورویل زمین سے پانی نکالنے کا مؤثر ذریعہ ہے لیکن وہ خود پانی کو دوبارہ زمین میں پہنچانے کا نظام نہیں۔ اسی طرح نہریں پانی ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچا سکتی ہیں مگر زیر زمین آبی ذخائر کی قدرتی بحالی کا مسئلہ الگ رہتا ہے۔

اس کے برعکس جوہڑ اور بعض دوسرے روایتی نظام بارش کا پانی روک کر اسے زمین میں رسنے کا موقع دیتے ہیں۔

اسی لیے پانی کے ماہرین کے لیے یہ نظام صرف تاریخی ورثہ نہیں رہے بلکہ ایسے مقامی طریقوں کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں جو کم لاگت میں پانی کے قدرتی چکر کو سہارا دے سکتے ہیں۔

بھارت نے بھی جدید حل پر بہت انحصار کیا

بھارت کی موجودہ صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک نے آزادی کے بعد پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے ڈیموں، نہروں اور بجلی سے چلنے والے بورویلز سمیت جدید انفراسٹرکچر پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔

یہ نظام آبپاشی، شہری پانی کی فراہمی اور بجلی پیدا کرنے میں اہم رہے ہیں لیکن زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنے کے معاملے میں ہر جگہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔

اسی وجہ سے اب بعض علاقوں میں پالیسی کا رخ صرف مزید پانی نکالنے کے بجائے پانی کو زمین میں واپس پہنچانے کی طرف بھی ہے۔

مزید پڑھیں: مودی کی آبی جارحیت پر پاکستان کا ایک بار پھر سخت ردعمل

بھارتی حکومت کے مختلف پروگراموں میں تالابوں، بارش کے پانی کے ذخیرے اور زیر زمین پانی کی بحالی کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ سنہ 2020 میں پیش کیے گئے ایک سرکاری منصوبے میں بارش اور سطحی بہاؤ کے پانی کو زیر زمین آبی ذخائر تک پہنچانے کے لیے بڑے پیمانے پر ری چارج ڈھانچے بنانے کا تصور بھی شامل تھا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کئی طریقے نئی ایجاد نہیں بلکہ وہی مقامی طریقے ہیں جو مختلف علاقوں میں صدیوں پہلے استعمال ہوتے تھے۔

یہ روایت صرف بھارت تک محدود نہیں

برصغیر میں پانی کو محفوظ کرنے کے لیے زیر زمین اور سیڑھی دار آبی ڈھانچوں کی روایت بہت پرانی ہے۔ پاکستان میں بھی مغلیہ دور اور اس کے بعد کے زمانے کی متعدد باولیاں موجود ہیں جن میں روہتاس قلعے، کھاریاں، میانوالی، اسلام آباد کے قریب لوسر اور ٹھٹہ کی باولیوں کے نام شامل ہیں۔

اس لیے ان نظاموں کی بحالی کو پورے خطے کے لیے پانی کے ایک پرانے تجربے کی واپسی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں کئی علاقوں کو زیر زمین پانی کی گرتی سطح، غیر یقینی بارشوں اور بڑھتے درجہ حرارت کا سامنا ہے ماضی کے مقامی آبی نظام پر تحقیق ایک قابلِ غور موضوع ہوسکتی ہے۔

پرانے ڈھانچے کافی نہیں، دیکھ بھال بھی ضروری ہے

ماہرین کے مطابق صرف تاریخی کنوؤں اور تالابوں کو دوبارہ کھود دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔

ان ڈھانچوں کو مسلسل صاف کرنا، ان میں جمع ہونے والی مٹی نکالنا، آلودگی سے بچانا اور پانی کے استعمال کے مقامی اصول برقرار رکھنا ضروری ہے۔

موسی رانی ساگر کی مثال بھی یہی دکھاتی ہے۔ بحالی سے پہلے یہ تاریخی آبی ذخیرہ کچرے اور آلودگی سے متاثر تھا جس کی صفائی اور بحالی کے لیے مختلف اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں نے مل کر کام کیا۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی روایتی نظام کی کامیابی کا انحصار صرف اس کے ڈیزائن پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ مقامی آبادی اسے کتنی مستقل مزاجی سے برقرار رکھتی ہے۔

کیا مستقبل کا حل ماضی میں چھپا ہے؟

بھارت میں جاری یہ تجربات ایک دلچسپ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کا حل ہمیشہ بڑے ڈیموں، مزید بورویلز اور مہنگے نئے انفراسٹرکچر میں ہی تلاش کیا جانا چاہیے؟

ممکن ہے جواب دونوں کے امتزاج میں ہو۔

جدید ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر پانی کی فراہمی اور ذخیرے کے لیے ضروری ہے لیکن مقامی سطح پر بارش کا پانی روکنے، زمین میں اتارنے اور زیر زمین ذخائر کو بحال کرنے والے روایتی طریقے بھی اس نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بھارت کا تجربہ کم از کم یہ ضرور دکھاتا ہے کہ جن نظاموں کو کبھی پرانے دور کی نشانی سمجھ کر نظر انداز کردیا گیا تھا پانی کے بڑھتے ہوئے بحران میں وہ دوبارہ عملی اہمیت حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ تجربہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ پرانے تجربات کو بھی دوبارہ سمجھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

یہ تجربہ صرف بھارت تک محدود نہیں۔ جنوبی ایشیا کے ان علاقوں میں جہاں بارش موسمی، زیر زمین پانی محدود اور درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، مقامی سطح پر پانی روکنے اور زمین میں اتارنے کے روایتی طریقے دوبارہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp