اگست کے اس مہینے میں جدید فلکیات کے ایک انتہائی متنازع ترین فیصلے کو پورے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ سنہ 2006 میں انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین نے پلوٹو سے سیارے کا درجہ واپس لیتے ہوئے اسے ’بونا سیارہ‘ قرار دے دیا تھا جس کے بعد ہمارے نظام شمسی کے تسلیم شدہ سیاروں کی تعداد 9 سے کم ہو کر 8 رہ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
مذکورہ فیصلے کے 2 دہائیوں بعد جہاں سائنسدانوں کے پاس پلوٹو اور اس کے پڑوسی اجرام فلکی کے بارے میں کہیں زیادہ معلومات موجود ہیں وہیں اس فیصلے کی درستگی پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
پلوٹو کا درجہ گھٹانے کی بنیاد سنہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی جب سائنسدانوں نے کائپر بیلٹ میں پلوٹو سے مشابہت رکھنے والے کئی دیگر اجرام دریافت کیے۔ اس تنازع کا حتمی موڑ سنہ 2005 میں بونے سیارے ’ایرس‘ کی دریافت بنا جو سائز اور سورج سے فاصلے میں تقریباً پلوٹو کے ہی برابر تھا۔
اس نئی دریافت کے بعد نظامِ شمسی میں یا تو ایک اور سیارے کا اضافہ کرنا پڑتا یا پھر سیارے کی نئی تعریف وضع کی جاتی۔ چنانچہ یونین نے یہ معیار مقرر کیا کہ ایک حقیقی سیارے کو نہ صرف سورج کے گرد گردش کرنا اور اپنی کشش ثقل کے باعث گول ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنے مدار کا راستہ بھی دیگر اجرام سے بالکل پاک رکھنا چاہیے۔ پلوٹو ابتدائی دو شرائط پر تو پورا اترا لیکن تیسری شرط میں ناکام رہا۔
مزید پڑھیے: پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟
تاہم تمام ماہرین فلکیات اس تعریف اور فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے سیاروی ماہر فلکیات پال برن کا ماننا ہے کہ پلوٹو اج بھی ایک سیارہ ہی ہے۔
اپال برن کا کہنا ہے کہ پلوٹو کے ساتھ ساتھ دیگر بونے سیاروں جیسے ایرس، سیرس، میک میک اور ہاومیا کو بھی سیاروں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: ناسا کے جہاز نیو ہورائزنز سے کھینچی پلوٹو کی تصاویر، سائنسدان ایک دہائی بعد بھی مسحور
انہوں نے کہا کہ قدرت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان پلوٹو کو کس نام سے پکارتے ہیں لیکن کسی چیز کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح اور نام اس بات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں کہ عام لوگ سائنس کو کس نظر سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔













