جن لوگوں نے سنہ 2006 تک اپنی تدریسی یا دیگر کتب میں پلوٹو کے بارے میں پڑھا ان میں سے بہت سوں کے ذہنوں میں وہ اب تک ہمارے نظام شمسی کا 9واں سیارہ ہی ہے لیکن اب ایسا ہے نہیں۔ پلوٹو کے سیارے کے درجے سے متعلق بحث ایک بار پھر اس وقت شروع ہوئی جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک 10 سالہ بچی کا جذباتی خط وائرل ہوا جس میں پلوٹو کو دوبارہ سیارہ قرار دینے کی اپیل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سیارہ زحل پر زندگی کے مزید آثار مل گئے، سائنسدانوں کے نزدیک اہم ترین پیشرفت
یہ خط ناسا، اس کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین اور معروف سوشل میڈیا پیج مائیکز ویدر پیج کی توجہ کا مرکز بن گیا جس نے سب سے پہلے اس خط کو آن لائن شیئر کیا۔
جیسے ہی یہ خط وائرل ہوا، ناسا نے اس پر عوامی طور پر ردِعمل دیا، جس سے پلوٹو کے سیارے ہونے یا نہ ہونے کی بحث دوبارہ زور پکڑ گئی۔
اس خط میں بچی نے نہایت جذباتی انداز میں پلوٹو کو دوبارہ سیارہ بنانے کی درخواست کی اور اس کے نظام شمسی میں مقام کے بارے میں بنیادی معلومات بھی شامل کیں۔
سوشل میڈیا پر یہ پوسٹ تیزی سے پھیلی اور لوگوں کی دلچسپی ایک بار پھر اس موضوع کی طرف بڑھ گئی۔
بعد ازاں ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے ایکس پر بچی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیلا، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
تاہم ناسا کے اس جواب کا مطلب یہ نہیں کہ پلوٹو کی درجہ بندی میں کوئی باضابطہ تبدیلی کی جا رہی ہے۔
ناسا اب بھی انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین (آئی اے یو) کے طے کردہ اصولوں پر عمل کرتا ہے، جس کے مطابق پلوٹو کو ایک ڈوارف پلینیٹ (بونا سیار) قرار دیا گیا ہے۔
پلوٹو کا درجہ اب تک کیوں نہیں بدلا؟
پلوٹو کے سیارے کے درجے پر تنازعہ سنہ 2006 میں شروع ہوا تھا جب اسے باضابطہ طور پر سیاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پلوٹو سیارے کے لیے مقررہ 3 میں سے تیسری شرط پوری نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنے مدار کے اردگرد موجود دیگر اجسام کو صاف نہیں کر سکا اور کائپر بیلٹ (نظام شمسی کے بیرونی حصے میں برفیلے اجسام کا خطہ) میں دیگر اجسام کے ساتھ موجود ہے۔
مزید پڑھیں: مریخ سے پانی غائب ہونے کا معمہ حل ہونے کے قریب، نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف
اگرچہ پلوٹو ایک دلچسپ برفیلی دنیا ہے جس میں پہاڑ، گلیشیئرز اور چاند بھی موجود ہیں لیکن سائنسدانوں نے اب تک اس کی سائنسی درجہ بندی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ عوامی دلچسپی میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر پلوٹو کا درجہ تاحال تبدیل نہیں ہوا۔
2006 تک کی تدریسی و دیگر کتابوں میں پلوٹو 9واں سیارہ تھا
پلوٹو کو سنہ 1930 میں دریافت کیا گیا اور اس کے بعد کئی دہائیوں تک اسے ہمارے نظام شمسی کا 9واں سیارہ مانا جاتا رہا۔
Dear @NASA. From 10 year old Kaela. She is mailing to you today. Too cute not to post. She and her family are friends of ours. #bringplutoback pic.twitter.com/goPIb55iQG
— Mike's Weather Page (@tropicalupdate) April 9, 2026
اسکولوں کی کتابوں، سائنسی مضامین اور عام معلومات میں بھی پلوٹو کو مکمل سیارے کے طور پر شامل کیا جاتا تھا اور یہ حیثیت تقریباً 76 سال تک برقرار رہی۔
تاہم سنہ 2006 میں آئی اے یو نے سیارے کی باقاعدہ سائنسی تعریف متعارف کروائی۔ اس نئی تعریف کے مطابق کسی بھی سیارے کو اپنے مدار کے اردگرد موجود دیگر اجسام کو صاف کرنا ضروری ہے۔ پلوٹو اس شرط پر پورا نہیں اترتا کیونکہ وہ کائپر بیلٹ میں موجود کئی دوسرے برفیلی اجسام کے ساتھ اپنی جگہ شیئر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
اسی وجہ سے سنہ 2006 میں پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال کر بونا سیارہ قرار دے دیا گیا۔
یہ فیصلہ سائنسی بنیادوں پر کیا گیا تھا لیکن آج بھی بہت سے لوگ اس سے اختلاف کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پلوٹو کو دوبارہ سیارہ مان لیا جائے۔

پلوٹو کونسی شرائط پوری کرتا ہے؟
پلوٹو وہ 2 اہم شرائط پوری کرتا ہے جو انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین نے سیارے کے لیے مقرر کی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ کوئی بھی سیارہ سورج کے گرد چکر لگائے اور پلوٹو اس شرط پر پورا اترتا ہے کیونکہ وہ باقاعدگی سے سورج کے گرد اپنا مدار مکمل کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن: مدار میں 25 سال، جانیے دلچسپ معلومات
دوسری شرط یہ ہے کہ سیارہ اپنی کششِ ثقل کی وجہ سے گول شکل اختیار کرے اور پلوٹو یہ شرط بھی پوری کرتا ہے کیونکہ اس کی گریوٹی اسے تقریباً گول بنا دیتی ہے۔ تاہم وہ تیسری شرط پوری نہیں کر پاتا جو یہ ہے کہ سیارہ اپنے مدار کے اردگرد موجود دیگر اجسام کو صاف کرے۔ اب چونکہ پلوٹو کائپر بیلٹ میں دوسرے برفیلے اجسام کے ساتھ موجود ہے اس لیے اسے ’بونا سیارہ‘ قرار دیا گیا ہے۔














