امریکا میں ایچ ون بی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر سے تجاوز کرنے کی تجویز

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے ایچ ون بی ویزوں پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کردی۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ ضابطے کے تحت نئے ایچ ون بی ویزا کی فیس ایک لاکھ 3 ہزار 265 ڈالر مقرر کی جائے گی۔ مجوزہ ضابطہ باضابطہ طور پر وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے کے بعد عوامی رائے کے لیے 30 دن تک دستیاب رہے گا، جبکہ اسے رواں سال کے اختتام تک حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا پالیسی میں نئی تبدیلی، غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کا فیصلہ

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال ایک عارضی حکم کے ذریعے ایچ ون بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر سے زائد فیس عائد کی تھی، تاہم عدالتوں نے اس اقدام کو روک دیا تھا۔ رواں سال جون میں ایک وفاقی جج نے فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو اس کی وصولی سے روک دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی زیر سماعت ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کیا گیا حکم ستمبر میں ایک سال مکمل ہونے پر ختم ہوجائے گا، تاہم اس میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو فیس کو مستقل کرنے کے لیے باقاعدہ ضابطے بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکی اداروں کو خصوصی شعبوں میں تربیت یافتہ غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت ملتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر سال 65 ہزار ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے افراد کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ ویزا عام طور پر تین سے چھ سال تک کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔

اس مجوزہ فیس سے قبل ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے پر مختلف عوامل کے مطابق عموماً تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار ڈالر تک اخراجات آتے تھے۔

ویزا پروگرام پر اختلاف

صدر ٹرمپ اور ایچ ون بی پروگرام کے دیگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ متعدد کمپنیاں اس پروگرام کا غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت پر غیر ملکی ملازمین کو بھرتی کرتی ہیں۔ دوسری جانب کاروباری تنظیموں اور متعدد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بعض شعبوں میں اہل امریکی کارکنوں کی کمی ہے، اس لیے غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق رواں سال فروری کے اختتام تک تقریباً 70 اداروں نے 85 ویزا درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس ادا کی تھی۔

مجوزہ فیس کو امریکی ایوانِ تجارت، مختلف ریاستی حکومتوں اور مزدور تنظیموں سمیت متعدد گروہوں کی جانب سے قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ صدر کے پاس غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات موجود ہونے کے باوجود وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسی فیس عائد نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ فیس روایتی ٹیکس نہیں بلکہ غیر ملکی شہریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے صدارتی اختیار کے تحت عائد کی جارہی ہے۔

دریں اثنا، امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال آجروں نے تقریباً 3 لاکھ 44 ہزار ایچ ون بی ویزوں کے لیے اندراج کرایا، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد سے زیادہ کم تھا۔ 2023 میں تقریباً 7 لاکھ 94 ہزار ویزوں کے لیے درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی درخواست گزاروں کی جانچ مزید سخت کرنے کے ساتھ ساتھ ویزا انتخاب کا نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی تجویز دی ہے، جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ والے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

اس ماہ کے آغاز میں امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے ایچ ون بی کارکنوں کے قیام میں توسیع یا بیرون ملک مقیم ملازمین کو امریکا منتقل کرنے کی درخواستوں پر 4 ہزار 500 ڈالر تک اضافی فیس بھی عائد کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مولانا فضل الرحمان ہمارے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے، پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کریں گے، رانا ثنااللہ

کم خرچ یا مفت میں صحت اور ذہنی سکون بہتر بنانے کے آسان طریقے

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں برطانوی تعاون سے 2 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیمی سہولیات

لوگ جدید ٹیکنالوجی چھوڑ کر پرانے سسٹمز کی طرف کیوں لوٹ رہے ہیں؟

اینتھروپک کا ایک کھرب ڈالر تک کی تاریخ ساز حصص فروخت کا منصوبہ، اسپیس ایکس کا ریکارڈ توڑنے کی تیاری

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار