لوگ جدید ٹیکنالوجی چھوڑ کر پرانے سسٹمز کی طرف کیوں لوٹ رہے ہیں؟

پیر 24 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب بھی ٹیکنالوجی کی بات ہوتی ہے تو عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ نیا نظام پرانے نظام سے زیادہ بہتر، تیز اور محفوظ ہوگا لیکن سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں ایک دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے جہاں بعض ماہرین کے مطابق کچھ پرانی ٹیکنالوجیز اس لیے زیادہ محفوظ ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ہیکرز نے انہیں نشانہ بنانا تقریباً چھوڑ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نوکیا کا چاند سے 4G کال کا منصوبہ ناکام کیوں ہوا؟

فن لینڈ کے معروف سائبر سیکیورٹی ماہر مِکو ہائپونن کئی برس تک جدید ای میل سروسز جیسے جی میل یا ہاٹ میل کے بجائے ایک پرانے ای میل پروگرام ایوڈورا استعمال کرتے رہے۔

یہ پروگرام کئی سال پہلے ہی تکنیکی معاونت سے محروم ہوچکا تھا لیکن ہائپونن کے مطابق اس میں کئی ایسی خصوصیات تھیں جو انہیں پسند تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نظام مکمل طور پر محفوظ نہیں تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہیکرز کی دلچسپی اس میں ختم ہوگئی کیونکہ زیادہ تر حملہ آور جدید اور زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

ہائپونن اس تصور کو سیکیورٹی بائی اینٹی کوئٹی یعنی قدامت کے ذریعے تحفظ کہتے ہیں جبکہ بعض ماہرین اسے سیکیورٹی بائی آبسولیسنس بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بعض حالات میں پرانی ٹیکنالوجی اس لیے نسبتاً محفوظ ہوسکتی ہے کیونکہ سائبر مجرموں نے اسے نظر انداز کردیا ہوتا ہے۔

ہیکرز زیادہ تر مقبول نظاموں کے پیچھے جاتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کی دنیا میں زیادہ تر حملہ آور مالی فائدے کے لیے کام کرتے ہیں اس لیے وہ ایسے نظاموں کو نشانہ بنانا پسند کرتے ہیں جن کے صارفین کی تعداد زیادہ ہو۔

مزید پڑھیے: کیا نوکیا اسمارٹ فونز اب دستیاب نہیں ہوں گے؟

ہائپونن کے مطابق اگر کسی پرانے نظام کو صرف چند درجن افراد استعمال کر رہے ہوں تو مجرموں کے لیے اسے نشانہ بنانے کا فائدہ بہت کم رہ جاتا ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عام صارفین کے لیے جدید، اپ ڈیٹ اور سیکیورٹی پیچز سے لیس سافٹ ویئر استعمال کرنا اب بھی سب سے محفوظ طریقہ ہے۔ پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال ہر صورتحال میں بہتر انتخاب نہیں ہوتا بلکہ یہ مخصوص حالات میں ایک حکمت عملی ہوسکتی ہے۔

پرانے فون، کم خطرات؟

یہ رجحان صرف ای میل پروگرامز تک محدود نہیں۔

کچھ لوگ اب بھی پرانے موبائل فون استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ جدید اسمارٹ فونز کی طرح پیچیدہ نہیں ہوتے اور ان پر ہیکرز کی توجہ بھی کم ہوتی ہے۔

ہائپونن نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو آج بھی نوکیا 9210 جیسے پرانے فون کا استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ اس فون کے آپریٹنگ سسٹم میں پرانی خامیاں موجود ہوسکتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کے خلاف حملے بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ سائبر مجرم عام طور پر اینڈرائیڈ اور آئی فون جیسے مقبول پلیٹ فارمز کو نشانہ بناتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دہائیوں پہلے دنیا کو چیٹنگ کے ذریعے جوڑنے والی کمپنی اے او ایل کا انٹرنیٹ باب بند ہوگیا

یہ ایک طرح کا سمجھوتا ہے کہ پرانے نظام میں خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن اسے نشانہ بنانے والے حملہ آور بھی کم ہوسکتے ہیں۔

فوجیں بھی پرانی ٹیکنالوجی نہیں چھوڑ رہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی جدید ترین افواج بھی بعض معاملات میں پرانی ٹیکنالوجی کو برقرار رکھتی ہیں۔

برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ دفاعی ماہر تھامس وِدرنگٹن کے مطابق یوکرین جیسے علاقوں میں جنگ کے دوران فوجی اہلکار کاغذی نقشے اور کمپاس استعمال کرتے نظر آئے ہیں کیونکہ انہیں دشمن الیکٹرانک حملوں سے ناکارہ نہیں بنایا جاسکتا۔

ان کے مطابق یہ ’اینالاگ لچ‘  ہے یعنی ایسے نظام جو جدید ٹیکنالوجی کے ناکام ہونے کی صورت میں بھی کام کرتے رہیں۔

روس کی جانب سے سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور جی پی ایس نظام میں مداخلت کی کوششوں کے بعد کئی ممالک نے دوبارہ ایسے متبادل نظاموں پر توجہ دینا شروع کی ہے جو مکمل طور پر سیٹلائٹس پر منحصر نہیں۔

جی پی ایس کے مقابلے میں پرانے ریڈیو نظام

آئرلینڈ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی ایک دلچسپ فیصلہ کیا۔ اگرچہ جدید دور میں طیاروں کی رہنمائی کے لیے جی پی ایس کا استعمال بڑھ گیا ہے لیکن جی پی ایس سگنلز کو جام کیا جاسکتا ہے۔

اسی وجہ سے آئرلینڈ نے زمین پر موجود پرانے ریڈیو نیویگیشن بیکنز کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید عرصے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں متبادل نظام موجود رہے۔

ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دور سے تعلق رکھنے والا ای لوران جیسے ریڈیو نیویگیشن نظام دوبارہ اہمیت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ انہیں جام کرنا جی پی ایس کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔

پرانی مقناطیسی ٹیپ کا دوبارہ عروج

ڈیٹا اسٹوریج کے شعبے میں بھی ایک پرانی ٹیکنالوجی آج تک زندہ ہے جو ہے مقناطیسی ٹیپ۔

یہ ٹیکنالوجی سنہ 1950 کی دہائی میں سامنے آئی تھی لیکن آج بھی بڑی کمپنیاں، تحقیقی ادارے اور سرکاری ادارے بڑی مقدار میں ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔

اس کی ایک بڑی وجہ سائبر حملوں سے تحفظ ہے۔ اگر کسی کمپنی کے کمپیوٹر سسٹم پر رینسم ویئر حملہ ہوجائے اور ڈیٹا لاک کردیا جائے تو الگ محفوظ رکھی گئی ٹیپ بیک اپ سے معلومات دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل کیمرے کی پیدائش: ایک انجینیئر نے فوٹوگرافی کی دنیا بدل کر رکھ دی

ڈیٹا اسٹوریج کمپنی کوانٹم کے سربراہ ہیوز میراتھ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں رینسم ویئر حملوں نے مقناطیسی ٹیپ کی اہمیت دوبارہ بڑھا دی ہے۔

ٹیپ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے کمپیوٹر نیٹ ورک سے الگ رکھا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے ہیکرز کے لیے اس تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے۔

ووٹنگ اور کاغذی نظام پر بحث

ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے باوجود کچھ شعبوں میں لوگ اب بھی کاغذی نظام کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا اب Siri AI آپ کی پرانی چیٹس اور چھپی معلومات بھی نکال لے گا؟ ایپل نے سب کو حیران کر دیا

الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں کئی ممالک میں بحث جاری ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج جلد فراہم کرتی ہیں جبکہ ناقدین کو خدشہ ہے کہ سائبر حملے انتخابات کی شفافیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

ہائپونن کے مطابق ووٹنگ جمہوریت کی بنیاد ہے اور اگر کسی نظام میں کمزوری کا خدشہ ہو تو صرف رفتار کے لیے خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔

کیا پرانی ٹیکنالوجی واقعی بہتر ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا جواب سادہ نہیں۔

نئی ٹیکنالوجی عام طور پر زیادہ طاقتور، تیز اور سہولت فراہم کرنے والی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ پیچیدہ نظام زیادہ حملہ آور راستے بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

اسی لیے بعض حساس شعبوں میں پرانے اور نئے نظاموں کو ملا کر استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اصل سبق یہ نہیں کہ لوگ پرانی ٹیکنالوجی پر واپس چلے جائیں بلکہ یہ ہے کہ ہر کام کے لیے جدید ترین نظام ہی ہمیشہ بہترین انتخاب نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی ایک سادہ، پرانا اور نظر انداز کیا جانے والا نظام بھی غیر متوقع طور پر زیادہ مضبوط ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘: فوٹوگرافک کمپنی کوڈک 133 سال بعد کاروبار سمیٹنے پر مجبور

جیسے دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر وہ ٹیکنالوجی دستیاب نہ رہے جس پر ہم مکمل انحصار کرتے ہیں تو ہمارے پاس متبادل کیا ہوگا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو دوٹوک پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار