وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہے، تاہم مولانا فضل الرحمان ہمارے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے پر کسی کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: نئے صوبوں کے معاملے پر ن لیگ کی خاموشی، نواز شریف نے رہنماؤں کو بیان بازی سے روک دیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس دن کورم پورا کرنا ہوا، کر لیا جائے گا، جبکہ کوئی قانون سازی کرنی ہوئی تو وہ بھی ہو جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ تحفظات دور ہونے تک معمول کی قانون سازی میں ساتھ نہیں ہوں گے، تاہم پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کریں گے۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور کل تیسری ملاقات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے تحفظات ہیں۔
’توہین عدالت کے معاملے پر جواب وزیر داخلہ دیں گے‘
رانا ثنااللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے معاملے پر جواب وزیر اطلاعات یا وزیر قانون نہیں بلکہ وزیر داخلہ کی جانب سے دیا جائے گا۔
انہوں کہاکہ توہین عدالت کا معاملہ اس بنیاد پر سامنے آیا کہ ایک اسپتال کے بجائے دوسرے اسپتال میں چیک اپ کرایا گیا، تاہم اسپتال تبدیل کرنے کی وجہ امن و امان کی صورتحال تھی۔
انہوں نے کہاکہ امن و امان کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے دائرہ کار میں آتی ہے، اسی لیے وزارت داخلہ سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اس معاملے سے متعلق ثبوت عدالت کے سامنے رکھے گی۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح طور پر ہدایت کی تھی کہ یہ کام نہیں کرنا، لیکن پی ٹی آئی نے وہی اقدام کیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ مذاکرات کرنا اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنا پی ٹی آئی کی سیاست کا حصہ نہیں۔ ان کے بقول تحریک انصاف کا آغاز بانی پی ٹی آئی سے ہوا اور اسی پر ختم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے علاوہ کون ہے جسے اختلاف ہے؟ باقی سب ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
’جماعت اسلامی کا احتجاج عوامی حمایت حاصل نہیں کرسکا‘
جماعت اسلامی کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف احتجاج پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کو صورتحال کا احساس کرتے ہوئے احتجاج ختم کردینا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج میں عوام شریک نہیں ہوئے اور عوام نے جماعت اسلامی کے احتجاج کو مسترد کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کو مشورہ ہے کہ وہ یہ کام چھوڑ دے، جب احتجاج میں کوئی شریک ہی نہیں ہوا تو اسے عوامی احتجاج کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ وہ خالد باٹھ کو بھی جانتے ہیں اور ان کسانوں کو بھی جنہیں وہ ساتھ لے کر آئے تھے۔ لوگوں کو اطمینان ہے کہ مسلم لیگ ن کو عوامی مسائل کا ادراک ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہماری سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو مہنگائی اور دیگر مشکلات کے حل کے امکانات پیدا ہوں گے۔
’آزاد کشمیر میں حکومت سازی میں کوئی دشواری نہیں‘
اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے کوئی دشواری نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج مخصوص نشستوں پر انتخاب ہوگیا ہے اور مسلم لیگ ن کے 6 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جس کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں ن لیگ کے ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ہے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی مظاہرین سے متعلق جو فیصلہ کرے گی، وہ آزاد ہے۔ ہمیں امید ہے کہ متعلقہ لوگ اپنے مسائل آپس میں بہتر انداز میں حل کریں گے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کی سیاست میں مریم نام کا چرچا، ’تین مریم‘ اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئے کوئی الائنس نہیں بن سکتا، کیونکہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنا پی ٹی آئی کے خمیر میں ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق بنانا ہے یا نہیں، یہ درخواست گزاروں کا اپنا فیصلہ ہے۔














