پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ ہفتے بڑی کمی کے امکانات بظاہر کم نظر آ رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 86 ڈالر فی بیرل تھی جو بڑھ کر 88 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ دوسری جانب پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں گلف مارکیٹ کے نرخ اور دیگر عالمی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے میں بھی گلف مارکیٹ میں اس قیمت میں بڑا اضافہ ہوا ہے اور قیمت 87 ڈالر سے بڑھ کر 90 ڈالر ہو گئی ہے، رواں ہفتے اگر اس قیمت میں کمی ہو بھی جائے تو چونکہ ایک مکمل ہفتے کی اوسط قیمت کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے تو اس لیے کسی بڑی کمی کا امکان نہیں ہے بلکہ امکان یہی ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔
تازہ صورتحال کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 341.59 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 368.29 روپے فی لیٹر ہے۔
گزشتہ نظرثانی میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا، تاہم ڈیزل کی قیمت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ 14 اگست کو پیٹرول 325.43 روپے فی لیٹر تھا جو بعد ازاں بڑھ کر 341.59 روپے فی لیٹر ہوگیا، یوں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 16.16 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران عالمی خام تیل کی قیمت، گلف مارکیٹ کے نرخ اور دیگر متعلقہ عوامل میں نمایاں کمی نہ ہوئی تو اگلی نظرثانی میں پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے۔ تاہم حتمی قیمتوں کا تعین متعلقہ حکام کی جانب سے عالمی مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں حالیہ عرصے کے دوران کمی دیکھی گئی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر سے زائد کی بڑی کمی کی گئی تھی، واضح رہے کہ حتمی قیمتوں کا اعلان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر کرتی ہے۔













