راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل کے واقعے نے ان کے خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق حنا ایک متحرک پیشہ ورانہ زندگی گزار رہی تھیں، اپنے والدین کے بہت قریب تھیں اور مستقبل کے لیے کئی خواب رکھتی تھیں، لیکن ان کی اچانک موت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
45 سالہ حنا جاوید کی لاش 20 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع عسکری اپارٹمنٹس میں ان کے گھر سے ملی۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات قتل کے مقدمے کے طور پر کی جا رہی ہیں، جبکہ مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
’ایسی کوئی بات نہیں تھی جو پہلے سے خطرے کا احساس دلاتی‘
حنا جاوید کی کزن صباح بانو ملک کے مطابق خاندان کے لیے یہ واقعہ غیر متوقع تھا، کیونکہ حنا کی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔
صباح بانو ملک نے وی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ حنا تقریباً روزانہ اپنے والدین کے گھر جاتی تھیں اور ان سے ملاقات ان کی زندگی کا مستقل حصہ تھی۔
ان کے مطابق حنا کی والدہ الزائمر کے مرض کے ایڈوانس مرحلے میں ہیں، جبکہ والد پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اسی لیے حنا اپنے والدین کے ساتھ بہت وقت گزارتی تھیں۔
This video from the Hina murder case Islamabad is sickening. What we hear in the audio is the speaker now a murderer allegedly presenting extreme hypotheticals to supposedly teach "strategic thinking" with horrific confidence and almost intellectual superiority? Framing murder… pic.twitter.com/otozpFOzgr
— Fereeha M Idrees (@Fereeha) August 25, 2026
صباح کہتی ہیں کہ خاندان کو کسی ایسے خطرے کا علم نہیں تھا جس سے اندازہ ہو سکتا کہ صورتِ حال اس حد تک پہنچ جائے گی۔
شادی کے بعد زندگی اور شوہر کے مزاج کا ذکر
حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔ صباح بانو ملک کے مطابق خاندان کو حنا پر کسی جسمانی تشدد کے بارے میں علم نہیں تھا، تاہم حنا نے کچھ قریبی افراد سے اپنے شوہر کے غصے والے مزاج کا ذکر کیا تھا۔
ان کے مطابق حنا کوشش کرتی تھیں کہ شوہر کو غصہ نہ آئے اور وہ اس کے ردِعمل سے بچنے کے لیے محتاط رہتی تھیں۔
صباح بانو ملک کا کہنا ہے کہ انہیں صرف اتنا معلوم تھا کہ حنا کے شوہر کا مزاج سخت تھا اور وہ کبھی کبھار زبانی طور پر بدتمیزی کر سکتے تھے، لیکن خاندان کو کسی بڑے خطرے کا اندازہ نہیں تھا۔
ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟
حنا جاوید کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق اہلِ خانہ کو اطلاع ملنے کے بعد جب وہ گھر پہنچے تو حنا کی لاش باتھ روم میں موجود تھی۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا موجود تھا، جبکہ گردن کے قریب تار لپٹی ہوئی تھی۔
ایف آئی آر میں حنا کے شوہر فیصل اصغر امام، گھریلو ملازم ذیشان ارشد اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ تاہم مقدمے میں لگائے گئے الزامات کی تصدیق تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گی۔
پولیس تحقیقات میں پیش رفت
پولیس نے حنا کے شوہر فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔
پولیس کے مطابق کیس میں فرانزک شواہد، موبائل فون ریکارڈ اور دیگر ثبوتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا کے جسم پر متعدد زخموں کے نشانات سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق مزید فرانزک رپورٹس کے بعد ہی موت کی حتمی وجہ اور واقعے کی مکمل تفصیلات واضح ہو سکیں گی۔
’وہ خوشگوار زندگی چاہتی تھیں‘
حنا کے خاندان کے مطابق وہ ایسی زندگی کی خواہش رکھتی تھیں جس میں خوشی اور استحکام ہو۔ صباح بانو ملک کے مطابق حنا کی شادی کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھ رہی تھیں اور حال ہی میں انہیں ترقی بھی ملی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ حنا ایک مخلص بیٹی تھیں، جو اپنے والدین کے ساتھ وقت گزارتی تھیں اور اپنے مستقبل کے لیے پرامید تھیں۔
گھر اور خواتین کے تحفظ کا سوال
حنا جاوید کے قتل کے بعد ایک بار پھر خواتین کے گھر کی چار دیواری کے اندر تحفظ پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
صباح بانو ملک کا کہنا ہے کہ عام طور پر گھر کو خواتین کے لیے محفوظ ترین جگہ تصور کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں خواتین کے گھروں کے اندر تشدد کا شکار ہونے کے واقعات اس تصور پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ان کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کی حفاظت اور گھریلو مسائل کی ابتدائی علامات کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جائے۔
خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے کئی واقعات میں متاثرہ فرد اکثر ابتدا میں کھل کر مدد طلب نہیں کر پاتا، اس لیے خاندان، دوستوں اور متعلقہ اداروں کو رویوں میں آنے والی تبدیلیوں اور خطرے کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ خواتین کے لیے محفوظ شکایتی نظام، بروقت مدد اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے، تاکہ گھروں کے اندر ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
کیس کی موجودہ صورتِ حال
پولیس کے مطابق حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، جبکہ حنا کے شوہر اور گھریلو ملازم دونوں پولیس کی تحویل میں ہیں۔
کیس میں کسی بھی ملزم کی ذمہ داری عدالتی فیصلے کے بعد ہی طے ہوگی، تاہم خاندان نے شفاف تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
حنا جاوید کے خاندان کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ بظاہر معمول اور امیدوں سے لبریز ایک زندگی اچانک اس انجام تک کیسے پہنچی۔














