وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں جس کی بھی غفلت ہوئی اسے سامنے لایا جائے گا، جبکہ احتساب ان سے شروع کیا جائے۔
پمز میں آتشزدگی کے واقعے کے حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز میں آگ لگنے کا واقعہ حادثہ ہے۔
مزید پڑھیں: پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ میرے اس مؤقف کی تائید ہے کہ نظام کام نہیں کررہا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ احتساب مجھ سے شروع کیا جائے، اور میرے نیچے بھی کوئی نہیں بچنا چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہاکہ سیکریٹری صحت کو ہٹانا وزیراعظم کا اختیار تھا جو انہوں نے استعمال کیا۔
انہوں نے کہاکہ اس حادثے میں جس کی بھی غفلت ہوئی اسے سامنے لایا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہاکہ انکوائری کا نتیجہ آنے دیں، جو بھی ذمہ دار ہوگا نہیں بچے گا۔
وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پمز کی یہ عمارت 1984 میں بنائی گئی تھی اور آج یہاں ساڑھے 9 ہزار مریض آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یا وفاقی وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دروازہ بند ہونے سے لوگوں کے انخلا میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی شہر کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے وزیراعظم یا وفاقی وزیر سنبھالے۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے سرکاری اسپتالوں کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب
واضح رہے کہ آج صبح پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
وزیراعظم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا، جبکہ وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہاکہ میں اپنا فیصلہ وزیراعظم پر چھوڑتا ہوں، وہ جو کہیں گے اس پر عمل کروں گا۔














