امریکی قونصل جنرل لاہور اسٹیٹسن سینڈرز کے حالیہ بیان سے کم از کم یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ واشنگٹن ریکوڈک کو پاکستان کے ساتھ اہم معدنیات کے شعبے میں وسیع تر تعاون کے ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے اور امریکی کمپنیاں پاکستان خصوصاً تانبے، سونے، ٹنگسٹن اور اینٹی منی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش کررہی ہیں۔
نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں پاکستان کی نایاب معدنیات سے متعلق 2 روزہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹسن سینڈرز نے ریکوڈک منصوبے کو پاکستان اور امریکا کے درمیان 6 دہائیوں سے زائد تعاون کا نتیجہ اور دونوں ممالک کے مل کر کام کرنے کی بہترین مثال قرار دیا۔
امریکی قونصل جنرل کے مطابق ریکوڈک منصوبہ اپنی پوری مدت میں امریکا سے تقریباً ایک ارب ڈالر کے کان کنی آلات اور خدمات کی برآمدات کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں 75 ارب ڈالر سے زائد منافع اور ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن
یہ اعدادوشمار بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے اس منصوبے کی ممکنہ اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ ریکوڈک سے پیدا ہونے والے روزگار اور معاشی مواقع میں بلوچستان کے مقامی نوجوانوں کا حصہ کتنا ہوگا؟ اگر منصوبے میں مقامی افراد کو ترجیح، فنی تربیت اور جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتیں فراہم کی جائیں تو ریکوڈک بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے محض ایک کان نہیں بلکہ روزگار اور ہنرمندی کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے۔
سینڈرز نے بتایا کہ ریکوڈک کی بنیاد 1961 میں ہونے والے پاک امریکا مشترکہ جیولوجیکل سروے سے جڑی ہے، جس میں بلوچستان میں اہم معدنی ذخائر کی نشاندہی ہوئی تھی۔ ان کے بقول 6 دہائیوں سے زائد عرصے کا تعاون اب ایک ایسے منصوبے کی شکل اختیار کرچکا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے معدنی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ریکوڈک کے تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان کے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ امریکی کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تانبے، سونے، ٹنگسٹن، اینٹی منی اور دیگر معدنیات میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہی ہیں۔
سینڈرز کے مطابق پاکستان کی معدنی دولت ملکی معیشت کو کئی نسلوں تک تبدیل کرسکتی ہے، جبکہ امریکا سرمایہ اور ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں کے تجربے کو بروئے کار لاکر پاکستان کو ان وسائل کو ذمہ دارانہ انداز میں ترقی دینے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں کان کنی کا شعبہ اس وقت مجموعی ملکی پیداوار میں تقریباً 3 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ صرف ایک بڑا منصوبہ، جیسے ریکوڈک، پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی میں تقریباً 0.5 فیصد اضافہ کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چاغی: ریکوڈک پروجیکٹ سائٹ روڈ پر خوفناک ٹریفک حادثہ، 11 افراد جاں بحق، 6 زخمی
تجزیہ نگاروں کا مؤقف ہے کہ ریکوڈک میں امریکی دلچسپی کو صرف غیرملکی سرمایہ کاری کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس منصوبے سے بلوچستان کے نوجوانوں کو کیا ملے گا۔ اگر امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی اور کان کنی کی مہارت کے ساتھ مقامی نوجوانوں کی تربیت اور روزگار کو منصوبے کا لازمی حصہ بنایا جاتا ہے تو ریکوڈک بلوچستان میں ایک نئی ہنرمند افرادی قوت پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نوجوانوں کو صرف کان میں ملازمتیں ہی نہیں بلکہ انجینئرنگ، جیولوجی، مشینری، آئی ٹی، لاجسٹکس، ماحولیاتی تحفظ اور معدنیات کی ویلیو ایڈیشن جیسے شعبوں میں بھی مواقع مل سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکی قونصل جنرل کے بیان سے یہ تاثر لینا درست نہیں کہ امریکا ریکوڈک میں براہ راست ملکیتی حصہ حاصل کررہا ہے۔ امریکی کردار فی الحال سرمایہ کاری، فنانسنگ، ٹیکنالوجی، کان کنی کے آلات اور خدمات کے ذریعے تعاون بڑھانے کی سمت میں نظر آتا ہے۔ بلوچستان کے لیے اصل امتحان یہی ہوگا کہ عالمی طاقتوں اور بڑی کمپنیوں کی معدنی دولت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو صوبے کے نوجوانوں کے لیے مستقل روزگار، فنی تربیت، مقامی کاروبار، انفراسٹرکچر اور معاشی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ توازن قائم ہوگیا تو ریکوڈک واقعی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوسکتا ہے۔













