امریکی کمیشن نے آر ایس ایس قیادت کے امریکا داخلے پر پابندی کا مطالبہ کردیا

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی سرپرست سمجھی جانے والی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ارکان کے خلاف ہدفی پابندیاں عائد کرنے اور تنظیم کے سربراہ موہن بھاگوت کا امریکی ویزا منسوخ کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب آر ایس ایس کے سربراہ امریکا کے دورے پر ہیں اور نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرنے والے ہیں۔

واشنگٹن میں جاری بیان میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی  کے چیئرمین عاصف محمود نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان آر ایس ایس ارکان اور بھارتی حکام کے خلاف ہدفی پابندیوں پر غور کرے جو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

عاصف محمود نے کہا کہ ان پابندیوں میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو جاری کیا گیا امریکی ویزا منسوخ کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ موہن بھاگوت اس وقت امریکا کے دورے پر ہیں اور ہفتے کو نیویارک سٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرنے والے ہیں۔

آر ایس ایس ایک طاقتور ہندو قوم پرست تنظیم ہے جسے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی کی نظریاتی بنیاد فراہم کرنے والی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ بی جے پی کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ اسی تنظیم سے وابستہ حلقوں سے ابھرا ہے۔

آر ایس ایس نے رواں سال مئی میں کہا تھا کہ اس نے بیرون ملک دوروں کا اہتمام اس تاثر کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا ہے کہ تنظیم ایک نیم فوجی گروہ ہے جو اقلیتوں کے خلاف حملوں میں ملوث ہے۔

امریکی کمیشن ایک 2 طرفہ حکومتی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کی صورتحال کی نگرانی کرتا اور امریکی حکومت کو پالیسی سفارشات پیش کرتا ہے۔ تاہم کمیشن کی سفارشات پابند نہیں ہوتیں اور امریکا نے اس کی حالیہ سفارشات کے بعد بھی پابندیاں عائد نہیں کی ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ ماضی میں امریکی کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے بھارت کے خلاف جانبدار قرار دیتی رہی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اکثریتی نظریے کو فروغ دیتی ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم آر ایس ایس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہندو مرکزیت رکھنے والی تہذیبی اور ثقافتی تحریک ہے جس کا مقصد ہندوؤں کو متحد کرکے بھارت کو عروج کی منزل تک پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ انتہا پسندی کی جڑ، ریاستی وزیر کو قتل کی دھمکیاں

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت میں گزشتہ چند برس کے دوران مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اداروں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، مذہب کی بنیاد پر شہریت سے متعلق قانون، مسلمانوں کی ملکیتی املاک کی مسماری، مسلم اکثریتی کشمیر کی آئینی خودمختاری کے خاتمے اور مذہب تبدیل کرنے سے متعلق قوانین پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروہوں کے مطابق ان اقدامات نے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔

تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت حکومت امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کی پالیسیاں تمام شہریوں اور برادریوں کے لیے یکساں ہیں اور خوراک پر سبسڈی اور بجلی کی فراہمی جیسے حکومتی پروگراموں سے ملک کے تمام طبقات مستفید ہو رہے ہیں۔

موہن بھاگوت کا موجودہ امریکی دورہ اور ان کے ویزے کے حوالے سے امریکی کمیشن کا مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ امریکا سمیت عالمی سطح پر مسلسل زیر بحث ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp