حکومت بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ کسی شخص کی جنس، قبیلہ یا علاقہ اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتا اور دہشتگردی کے خلاف کارروائی میں قانون سب کے لیے یکساں ہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملہ خواتین کا نہیں بلکہ دہشتگردی اور قانون کی عمل داری کا ہے۔ انعام مطلوب دہشتگرد افراد کی گرفتاری میں مدد دینے والی مصدقہ اطلاع پر انعام مقرر کیا گیا ہے، یہ بلوچ خواتین کے خلاف کوئی اقدام نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ چند خواتین کی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں شمولیت کو عوامی بغاوت یا بلوچ خواتین کی اجتماعی سوچ کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔

حکومت بلوچستان کے مطابق بلوچ معاشرتی روایت میں عورت کی حرمت اور عزت بنیادی اقدار ہیں۔ خواتین کو دہشتگردی کے لیے تیار کرنا بلوچ روایت نہیں بلکہ دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے اس روایت کا استحصال ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے پوسٹر جاری کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ جو شخص ہتھیار اٹھا کر ریاست اور قانون کے خلاف لڑے گا، اسے قانون کا سامنا کرنا ہوگا، خواہ وہ امیر ہو یا غریب اور مرد ہو یا عورت۔
یہ بھی پڑھیں:کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردانہ حکمت عملی، غیر ملکی سہولت کاری اور ناکامیوں کا پردہ چاک
حکومت بلوچستان نے واضح کیا کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو ڈھال بنا کر قانون سے نہیں بچ سکتیں اور نہ ہی بلوچ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرسکتی ہیں۔ دہشتگردی میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔














