دنیا کی سب سے طاقتور فوج کس کے پاس ہے؟ اس سوال کا جواب دینے میں کسی کو ایک لمحہ نہیں لگے گا۔ امریکا، سب سے بڑا دفاعی بجٹ بھی اسی کا ہے، لگ بھگ ایک ٹریلین ڈالر سالانہ۔ 11 جوہری طیارہ بردار بحری جہاز، دنیا بھر میں پھیلے سینکڑوں فوجی اڈے، جدید ترین لڑاکا طیارے، ایٹمی آبدوزیں، جاسوس سیارے، کروز میزائل، میزائل شکن نظام اور ہزاروں ایٹمی ہتھیار۔ اس فہرست کا مکمل ہم پلہ آج بھی زمین پر کوئی نہیں۔ روس، نہ چین۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے مگر ایک مختلف اور کہیں زیادہ دلچسپ سوال کھڑا کر دیا ہے، ایسا سوال جس پر ہمارے ہاں بات کم ہوئی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ امریکا ایران سے جنگ جیت سکتا ہے یا نہیں۔ مجموعی فوجی طاقت میں کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ امریکا ایک ہی وقت میں کتنی جنگیں لڑ سکتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی
ذرا ایک منظر تصور کیجیے۔ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں مصروف ہے، بحری بیڑے خلیج میں کھڑے ہیں، ٹام ہاک کروز میزائل داغے جا رہے ہیں اور ایرانی میزائل روکنے کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ کے انٹرسیپٹر خرچ ہو رہے ہیں۔ عین اسی دوران تائیوان کے گرد کوئی نیا ،بڑا بحران کھڑا کر ہوجاتا ہے۔ تب کیا ہوگا؟ یہی وہ سوال ہے جس نے آج کل واشنگٹن کے دفاعی حلقوں کا پتا پانی کر رکھا ہے۔
میزائل گودام میں خود بخود واپس نہیں آتے
عام آدمی جب سنتا ہے کہ امریکا ہر سال ایک ٹریلین ڈالر دفاع پر پھونک دیتا ہے تو ذہن میں فوراً ہتھیاروں کے پہاڑ کا نقشہ بنتا ہے۔ ہتھیار واقعی بہت ہیں، لامحدود مگر ہرگز نہیں۔ جدید جنگ کے اہم ہتھیار انتہائی مہنگے، پیچیدہ اور سست رفتاری سے تیار ہوتے ہیں۔ تھاڈ اور پیٹریاٹ کے انٹرسیپٹر اور ٹام ہاک کروز میزائل اسی قبیل سے ہیں۔ انہیں چند سیکنڈ میں فائر کیا جا سکتا ہے، مگر ان کی جگہ نیا میزائل چند سیکنڈ میں نہیں بنتا۔ گویا خرچ کرنا آسان ہے، بھرنا مشکل۔
واشنگٹن پوسٹ کے ایک حالیہ تجزیے نے اسی طرف توجہ دلائی۔ اصل ذخائر کتنے ہیں، اس پر بحث ہوسکتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران کوئی ملک اپنے گودام کھول کر دنیا کو نہیں دکھاتا۔ بنیادی نکتہ مگر واضح ہے۔ اگر میزائل خرچ ہونے کی رفتار فیکٹری میں میزائل بننے کی رفتار سے زیادہ ہو جائے تو دنیا کی سب سے بڑی فوج کو بھی حساب کتاب لگانا پڑتا ہے۔
یوکرین میں یہ مسئلہ سامنے آ چکا ہے۔ امریکا اور یورپ نے بڑے پیمانے پر اسلحہ دیا تو پتا چلا کہ کئی اقسام کے ہتھیاروں کی سالانہ پیداوار اس رفتار سے کہیں کم ہے جس رفتار سے وہ ماڈرن جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ توپ کے گولوں جیسی نسبتاً سادہ چیز کی پیداوار کئی گنا بڑھانے میں بھی وقت لگا۔ ایران جنگ نے اسی بحث کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
کاغذات پر 11، سمندر میں کتنے؟
امریکا کے پاس 11 سپر طیارہ بردار بحری جہاز ہیں۔ دنیا کی کسی دوسری بحری قوت کے پاس ایسی صلاحیت نہیں۔ 11 کیریئر رکھنا اور گیارہ بیک وقت جنگ میں اتار دینا مگر 2 الگ باتیں ہیں۔ اس لیے کہ کسی جہاز کی مرمت کا کام چل رہا ہوتا ہے، کہیں عملے کی تربیت، جبکہ کوئی کیرئر طویل تعیناتی سے واپس آیا ہوتا ہے اور کسی کو اگلے مشن کے لیے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ عام حالات میں چند ہی کیریئر حقیقی معنوں میں سمندر میں سرگرم ہوتے ہیں۔
اب مسئلہ سمجھ آتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایک اضافی کیریئر بھیجنے کا مطلب صرف نقشے پر ایک تیر بحرالکاہل سے اٹھا کر خلیج میں رکھ دینا نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دنیا کا قیمتی ترین فوجی اثاثہ اب وہاں موجود نہیں جہاں بقول امریکی ماہرین چین کے مقابل کل اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بحرالکاہل میں تعینات یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو بھی مشرق وسطیٰ کی جانب منتقل کیا گیا۔ اس ایک فیصلے میں امریکا کی پوری الجھن چھپی ہے۔ ایران مغرب میں ہے اور چین مشرق میں۔ امریکا دونوں جگہ پہنچ سکتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جگہ ایک ہی وقت میں پوری طاقت سے موجود رہ سکتا ہے؟
جمہوریت کا اسلحہ خانہ کہاں گیا؟
یہاں اصل کہانی شاید امریکی فوج کی نہیں بلکہ امریکی فیکٹری کی ہے۔ دسمبر 1940 میں صدر روزویلٹ نے امریکا کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی تھی، ارسنل آف ڈیموکریسی یعنی جمہوری دنیا کا اسلحہ خانہ۔ اس کے پیچھے حیران کن صنعتی طاقت موجود تھی۔ موٹر کاریں بنانے والی فیکٹریاں بمبار طیارے بنانے لگیں۔ جنگ کے 4 برسوں میں امریکا نے 3 لاکھ کے قریب جنگی طیارے بنائے اور 2700 کے لگ بھگ لبرٹی مال بردار جہاز تیار کیے۔
امریکا کی اصل طاقت صرف یہ نہیں تھی کہ اس کے پاس ہتھیار زیادہ تھے، اصل طاقت یہ تھی کہ تباہ ہونے والے ہتھیار کی جگہ نیا ہتھیار حیران کن تیزی سے بنا لیتا تھا۔
آج کا امریکا ٹیکنالوجی میں اس زمانے سے بہت آگے ہے، مگر ایک عجیب تضاد پیدا ہوگیا ہے۔ جدید ہتھیار اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کی پیداوار چند بڑی دفاعی کمپنیوں اور الجھی ہوئی سپلائی چین کے رحم و کرم پر ہے۔ ایک جدید میزائل میں نازک الیکٹرانکس، سینسر، گائیڈڈ سسٹم ، مخصوص راکٹ موٹر اور کئی ایسے پرزے لگتے ہیں جو گنتی کے کارخانے بناتے ہیں۔ ایک پرزہ اٹکا تو پوری سپلائی لائن رک سکتی ہے۔
اسی لیے امریکی دفاعی بحث میں ایک اصطلاح بار بار سنائی دے رہی ہے، دفاعی صنعتی بنیاد۔ مطلب صاف ہے کہ جنگ اکیلا پینٹاگون نہیں لڑتا، فیکٹری بھی لڑتی ہے۔
چین کا خطرناک ترین ہتھیار میزائل نہیں
چین امریکا کے لیے منفرد چیلنج صرف اس لیے نہیں کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار یا بڑی فوج ہے۔ چین کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا کارخانہ ہے۔
مزید پڑھیے: مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں
خاص طور پر جہاز سازی میں فرق نے واشنگٹن کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تجارتی جہاز سازی کی صنعت اور وسیع صنعتی ڈھانچہ ہے جبکہ امریکی جہاز سازی اس کے مقابلے میں بری طرح سکڑ چکی ہے۔ یہ فرق کسی ایک بجٹ یا صدارتی حکم نامے سے پورا نہیں ہوتا، پوری صنعت دوبارہ کھڑی کرنا پڑتی ہے۔
یہاں دوسری جنگ عظیم کا پرانا سبق واپس آتا ہے۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں کون زیادہ طاقتور ہے، یہ اہم ہے، مگر جنگ چھ ماہ یا ایک سال چل جائے تو سوال بدل جاتا ہے: تباہ ہونے والے جہاز، میزائل، ڈرون اور گولہ بارود کون زیادہ تیزی سے دوبارہ بنا سکتا ہے؟
ممکن ہے اکیسویں صدی کی بڑی جنگ کا فیصلہ صرف میدان جنگ میں نہ ہو۔ امریکی اور چینی کارخانے بھی اس جنگ میں شریک ہوں گے۔
ایران بیجنگ کے لیے کیوں اہم ہے؟
آگے بڑھنے سے پہلے ایک غلط مفروضے سے بچنا ضروری ہے جس کے بارے میں بعض مغربی تجزیہ کار اشارہ کر رہے ہیں۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایران کی موجودہ جنگ چین نے امریکا کو پھنسانے کے لیے شروع کرائی۔ ایسی سازشی کہانیاں سنانے والوں کی مغرب میں اور ہمارے ہاں بھی کمی نہیں۔ ہر شام کسی نہ کسی سکرین پر ایک نیا بڑا کھیل دریافت ہو رہا ہوتا ہے۔
خاکسار کے نزدیک حقیقت زیادہ سادہ اور سرد مہر ہے۔ عالمی سیاست میں آپ کے حریف کی مصیبت خود بخود آپ کا فائدہ بن سکتی ہے، کسی سازش کے بغیر بھی۔
چین کو امریکا سے ایران میں لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر امریکا خود مشرق وسطیٰ میں ٹام ہاک خرچ کر رہا ہے، پیٹریاٹ اور تھاڈ کے انٹرسیپٹر جھونک رہا ہے، بحری بیڑے منتقل کر رہا ہے اور طیارے اور رسد کے وسائل وہاں باندھ رہا ہے تو بیجنگ چپ چاپ بیٹھ کر بھی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہر امریکی اثاثہ جو مہینوں خلیج میں بندھا ہے، اتنی مدت بحرالکاہل میں دستیاب نہیں۔
چین کا اصل میدان تائیوان ہے۔ فرض کریں ایران کا بحران جاری ہے اور اسی دوران چین تائیوان کے گرد بڑی بحری مشقیں شروع کر دیتا ہے، ناکہ بندی کی مشق کرتا ہے یا ایسا بحران کھڑا کرتا ہے جس کے جواب میں امریکا کو فوری بڑے بحری وسائل درکار ہوں۔
تب پینٹاگون کے منصوبہ ساز حساب لگا رہے ہوں گے کہ کون سا کیریئر کہاں ہے، کتنے میزائل باقی ہیں، کتنے پیٹریاٹ ایشیا منتقل کیے جا سکتے ہیں، کتنے بمبار دستیاب ہیں اور اگلے 6 ماہ میں فیکٹریاں کتنے نئے انٹرسیپٹر بنا سکتی ہیں؟ اب آپ کو سمجھ آ گئی ہوگی کہ امریکا جیسی سپر پاور بھی آخر حساب کتاب سے آزاد نہیں ہوتی۔
بیک وقت 2 جنگیں لڑنا
کولڈ وار کے خاتمے کے بعد ایک عرصے تک امریکی دفاعی منصوبہ بندی میں یہ تصور اہم رہا کہ فوج بیک وقت 2 بڑے علاقائی تنازعات سنبھال سکے۔ تب دنیا مختلف تھی۔ چین آج کی فوجی اور صنعتی طاقت نہیں تھا، روس سوویت یونین کے انہدام کے بعد شدید کمزوری کے دور سے گزر رہا تھا اور ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت بھی آج جیسی نہیں تھی۔
آج منظر بدل چکا ہے۔ یورپ میں روس اور یوکرین، مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل، بحرالکاہل میں چین اور تائیوان اور کوریائی جزیرہ نما پر شمالی کوریا۔
ان مسائل کو الگ الگ دیکھیں تو امریکا کے پاس ہر ایک سے نمٹنے کی زبردست صلاحیت ہے۔ اصل ڈراؤنا خواب تب شروع ہوتا ہے جب دو یا تین بحران ایک ساتھ پھٹ پڑیں۔ اور امریکا کے حریف بھی یہ بات خوب جانتے ہیں۔
بہت طاقتور، مگر کیا اتنا کافی ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ امریکی طاقت پر ہماری بحث میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ ہم دو انتہاؤں میں سے ایک چن لیتے ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے امریکا ناقابل شکست ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ دوسرا ہر امریکی ٹھوکر کو اس کے زوال کا حتمی ثبوت بنا ڈالتا ہے۔ ہمارے سوشل میڈیا پر تو ہر دوسرے مہینے امریکا کے خاتمے کا اعلان ہو جاتا ہے اور اگلے مہینے وہی امریکا پھر کچھ کرتا نظر آتا ہے۔
دونوں تصویریں ادھوری ہیں۔ امریکا آج بھی غیر معمولی طور پر طاقتور ہے۔ دنیا کے کسی ملک کے پاس اس جیسی عالمی فوجی رسائی نہیں۔ چند دنوں میں ہزاروں میل دور بڑی فوجی طاقت پہنچانے کی صلاحیت بھی غیر معمولی ہے۔
عالمی رسائی مگر لامحدود طاقت کا دوسرا نام نہیں۔ 11 کیریئرز ہیں مگر ہر وقت 11 دستیاب نہیں، میزائل ہزاروں ہیں مگر لامحدود نہیں، ایک ٹریلین ڈالر کا دفاعی خرچ ہے مگر پیچیدہ انٹرسیپٹر بنانے کے لیے فیکٹری کو پھر بھی وقت چاہیے۔ دنیا بھر میں اڈے ہیں، مگر ایک ہی طیارہ بیک وقت خلیج اور تائیوان کے اوپر نہیں اڑ سکتا۔
آخری اصول یہ بنا کہ طاقت اور فتح ایک چیز نہیں۔ ویت نام میں امریکا نے بے پناہ فوجی طاقت استعمال کی اور پھر بھی آخرکار اسے نکلنا پڑا۔ افغانستان میں بیس برس اور کھربوں ڈالر لگا کر جو نتیجہ نکلا، وہ ہم سے بہتر کون جانتا ہے۔ ہم نے تو اس جنگ کا ملبہ بھی اٹھایا اور قیمت بھی چکائی بلکہ بھاری قیمت۔
جنگ کا نیا حساب
شاید آنے والے برسوں میں فوجی طاقت ناپنے کا پیمانہ ہی بدل جائے۔ پہلے سوال ہوتا تھا کہ آپ کے پاس کتنے ٹینک ہیں؟ اب سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ 100 ٹینک تباہ ہو جائیں تو کتنی جلدی نئے بنا سکتے ہیں؟
کتنے میزائل موجود ہیں سے زیادہ اہم یہ ہوسکتا ہے کہ 500 میزائل ایک ہفتے میں خرچ ہوگئے تو دوبارہ بنانے میں 5 ماہ لگیں گے یا 5 سال؟
ڈرون نے یہ حساب مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اگر دشمن بڑی تعداد میں سستے ڈرون بنا سکتا ہے اور آپ ہر ڈرون کو گرانے کے لیے لاکھوں ڈالر کا میزائل داغ رہے ہیں تو بھائی لوگو، بتائیے کہ معاشی جنگ کون جیت رہا ہے؟
یوکرین اور بحیرہ احمر(ریڈ سی) اس نئے حساب کی جھلک دکھا چکے ہیں۔ اسی لیے آنے والے دور میں دفاعی صنعتی صلاحیت خود فوجی طاقت کا بنیادی حصہ ہوگی۔
اب ذرا واپس ایران کی طرف
ایران امریکا سے زیادہ طاقتور نہیں اور امریکا چاہے تو اس کے خلاف ہولناک تباہی پھیلا سکتا ہے۔ تہران کے لیے مگر کھیل شاید یہ ہے ہی نہیں کہ وہ امریکا کو میدان جنگ میں شکست دے۔ کمزور فریق کبھی کبھی جیتنے کے لیے نہیں لڑتا، وہ طاقتور دشمن کے لیے جنگ کی کاسٹ بڑھانے اور اسے بہت مہنگا، ناقابل برداشت بنانے کے لیے لڑتا ہے۔ زیادہ میزائل خرچ ہوں، زیادہ بحری بیڑے وہاں رکے رہیں، زیادہ طیارے علاقے میں پھنسے رہیں، جنگ لمبی ہو اور ذخائر گھٹیں۔
مزید پڑھیں: ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہییں
تب جنگ کا حساب صرف یہ نہیں رہتا کہ کس کے کتنے طیارے گرے اور کتنے ٹھکانے تباہ ہوئے؟ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ امریکا نے ایران کو دبانے کے لیے وہ کتنی صلاحیت خرچ کردی جس کی اسے کل کسی دوسرے بڑے معرکے کے لیے ضرورت پڑ سکتی ہے۔ شاید یہی اس ساری جنگ کا سب سے بڑا سبق ہے کہ سپر پاور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وسائل لامحدود ہیں۔
امریکا ہر جنگ لڑ سکتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اگر کئی جنگیں ایک ساتھ اس کے دروازے پر آ کھڑی ہوں تو وہ پہلے کس کو چنے گا اور کس کو اس کے حال پر چھوڑ دے گا؟ ہمارے جیسے ممالک کے لیے اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جب وہ چناؤ کر رہا ہوگا، تب ہم اس فہرست میں کہاں کھڑے ہوں گے؟
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












