لیک اونٹاریو یا لیک امریکا؟ کینیڈا نے ٹرمپ کا فیصلہ مسترد کردیا

جمعہ 28 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈین اسے ماضی کی طرح آج اور ہمیشہ ’لیک اونٹاریو’ ہی کہیں گے۔

مارک کارنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’لیک اونٹاریو‘ کا نام وینڈٹ زبان کے لفظ سے نکلا ہے، جس کا مفہوم جھیل خوبصورت یا جھیل بڑی ہے بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے اور کینیڈا کے کنفیڈریشن بننے اور امریکا کے اعلانِ آزادی سے بھی پہلے سے رائج ہے۔

کینیڈین وزیراعظم نے اپنے بیان میں امریکی پالیسی میں آنے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکا بدل رہا ہے، اس کے تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاریں اور جغرافیائی نام بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین تاریخ اور حقیقت کو نام دینے کے معاملے میں جانتے ہیں کہ اسے ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہا جائے گا۔

کارنی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس کے تحت امریکی حکومت نے لیک اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی۔

یہ جھیل امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اہم جغرافیائی و اقتصادی رابطے کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘لیک اونٹاریو’ کا نام بدل کر ‘لیک امریکا’ رکھنے کا انتظامی حکمنامہ جاری

امریکی اقدام کا اطلاق امریکی وفاقی حکومت کے استعمال اور سرکاری جغرافیائی ریکارڈز تک ہے، اس لیے کینیڈا یا بین الاقوامی ادارے اس نئے نام کو اپنانے کے پابند نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ جھیل کو اس کے تاریخی نام ’لیک اونٹاریو‘ سے ہی پکارے گی۔

نام کی تبدیلی کا یہ تنازع امریکا اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور محصولات کے معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر اضافی ٹیرف کے اقدامات نے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: متنازع اینٹی ٹیرف اشتہار: کینیڈین وزیراعظم نے صدر ٹرمپ سے معافی مانگ لی

کارنی کا ردعمل محض ایک جغرافیائی نام کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اسے کینیڈا کی تاریخی شناخت اور خودمختاری کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

کینیڈین حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکا کسی بھی نام کا انتخاب کرے، کینیڈا کی جانب سے اس جھیل کا تاریخی نام تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈونیشیا: بدعنوانی کے خلاف ہزاروں افراد پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے، پولیس کے ساتھ جھڑپیں

بچوں کے لیے فیس بک، انسٹاگرام پر بڑا کریک ڈاؤن، روزانہ صرف 2 گھنٹے استعمال کی اجازت

طالبان نے افغانستان میں فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع روک دی

برطانیہ کو یوکرین جنگ میں مداخلت پر روس کی سخت دھمکی، فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا انتباہ

سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے دور میں نوجوان حقائق پر مبنی سوچ اپنائیں، چیف آف ڈیفنس فورسز

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ