ہیومن رائٹس واچ نے افغانستان میں مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کرنے کے اقدام کو طالبان حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے کو دبانے کی’بے رحمانہ کوشش ‘ قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی نئے پولیس قانون کو انسانی حقوق پر ایک اور بڑا حملہ قرار دے دیا۔
ہیومن رائٹس واچ نے جمعرات کو طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی عائد کرنے پر شدید تنقید کی۔ افغانستان کی وزارتِ انصاف کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے گئے 84 صفحات پر مشتمل نئے قانون میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’ہر قسم کے احتجاج پر پابندی ہے ‘۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان میں احتجاج بھی جرم، طالبان نے ملک گیر پابندی لگا دی
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا کہ یہ اقدام ’اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے طالبان کی بے رحمانہ کوششوں میں ایک اور قدم‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکام ہر قسم کے اختلاف سے خوف زدہ ہیں، اسی لیے وہ اپنے جابرانہ اقدامات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
افغان حکومت نے نئے قانون کے ذریعے احتجاج پر پابندی سے متعلق تبصرے کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ طالبان کے تقریباً 5 سالہ دور حکومت میں افغانستان میں احتجاجی مظاہرے پہلے ہی بہت کم ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ کے مطابق جون میں ہرات میں خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والے احتجاج پر سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے کم از کم 2 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے طالبان کا نیا پولیس قانون، مظاہروں پر مکمل پابندی، مشتبہ افراد کی حراست اور سزا کے اختیارات میں اضافہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی نئے پولیس قانون کو افغانستان میں انسانی حقوق پر ’ایک اور وسیع حملہ‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق قانون میں احتجاج پر پابندی ان دفعات میں شامل ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے انتہائی سنگین ہیں۔














