طالبان حکومت نے افغانستان میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس سے متعلق نیا قانون نافذ کردیا، جس کے تحت ملک بھر میں کسی بھی قسم کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتہ 22 اگست کو پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا، جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ قانون کی منظوری طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔
The Taliban have formally banned all demonstrations across Afghanistan under a new police law issued by the group’s Ministry of Justice.
The law, titled the “Police Law” or “Qanun-e Shurta,” was published on Saturday, August 22, by the Taliban’s Ministry of Justice. The law was… pic.twitter.com/p51dfjnQEn
— KabulNow (@KabulNow) August 22, 2026
نئے قانون میں پولیس کے لیے ’شرطہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ قانون 53 دفعات پر مشتمل ہے اور اس کی دفعہ 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’پورے افغانستان میں تمام مظاہرے ممنوع ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت کے 5 سال، بین الاقوامی قبولیت ملی نہ عوامی، مزاحمت کے بیچ رجائیت پسند رجیم کی کشتی ڈانواں ڈول
رپورٹ کے مطابق طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران بھی عوامی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، تشدد اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے۔ گروپ سیاسی کثرتیت اور سیاسی جماعتوں و تحریکوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کو تسلیم نہیں کرتا۔














