افغانستان میں احتجاج بھی جرم، طالبان نے ملک گیر پابندی لگا دی

اتوار 23 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

طالبان حکومت نے افغانستان میں تمام مظاہروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس سے متعلق نیا قانون نافذ کردیا، جس کے تحت ملک بھر میں کسی بھی قسم کے احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں ہوگی۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتہ 22 اگست کو پولیس سے متعلق نیا قانون جاری کیا، جسے سرکاری گزٹ میں بھی شائع کیا گیا ہے۔ قانون کی منظوری طالبان کے سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ نے دی ہے۔

نئے قانون میں پولیس کے لیے ’شرطہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ قانون 53 دفعات پر مشتمل ہے اور اس کی دفعہ 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’پورے افغانستان میں تمام مظاہرے ممنوع ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:طالبان حکومت کے 5 سال، بین الاقوامی قبولیت ملی نہ عوامی، مزاحمت کے بیچ رجائیت پسند رجیم کی کشتی ڈانواں ڈول

رپورٹ کے مطابق طالبان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران بھی عوامی مظاہروں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور مختلف مواقع پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، تشدد اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

طالبان اس سے قبل سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کرچکا ہے۔ گروپ سیاسی کثرتیت اور سیاسی جماعتوں و تحریکوں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کو تسلیم نہیں کرتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp