روس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین نے برطانوی ساختہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے روسی سرزمین کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا تو ماسکو برطانیہ کی فوجی تنصیبات اور عسکری سازوسامان کو یوکرین کے اندر اور برطانوی سرحدوں سے باہر بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے برطانیہ کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے کی صورت میں ’تباہ کن نتائج‘ سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن ماسکو کی نظر میں جنگ میں براہ راست ملوث ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جمعرات کو ماسکو میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ روس پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ یوکرین کی جانب سے برطانوی ہتھیار استعمال کرتے ہوئے روسی سرزمین پر حملوں کے جواب میں یوکرین اور اس کی سرحدوں سے باہر موجود برطانوی فوجی تنصیبات اور سازوسامان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے برطانوی قیادت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اور دوٹوک انداز میں اپنی مبینہ جارحانہ پالیسی ترک کرے، بصورت دیگر جنگ ایک بالکل نئی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، روس حساس معاشی شعبوں کو نشانہ بنائے گا، پیوٹن کا یوکرین کو انتباہ
روس کی یہ دھمکی ایک روز قبل ماسکو کی جانب سے یوکرین پر روس کے زیر قبضہ ڈونیٹسک میں ایک شاپنگ سینٹر کو برطانوی ساختہ اسٹورم شیڈو میزائلوں سے نشانہ بنانے کے الزام کے بعد سامنے آئی۔ روس کا دعویٰ ہے کہ حملے میں بچوں سمیت متعدد شہری زخمی ہوئے۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ برطانیہ مبینہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے والی ’دہشتگردی‘ میں قانونی طور پر شریک ہونے سے صرف ایک قدم دور ہے۔ ان کے مطابق اگر لندن نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو اس کے ’تباہ کن نتائج‘ سامنے آ سکتے ہیں۔
روسی کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی برطانیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ میں شریک ہے اور ’آگ پر تیل ڈال رہا ہے‘۔
Russia has warned it could strike British military targets over the UK’s support for Ukraine.
Russia’s foreign ministry spokeswoman told the UK to back off on what she called London's hostile stance on the war, which she said risked taking the conflict to an entirely new level. pic.twitter.com/EN3psJh5KF
— The Independent (@Independent) August 27, 2026
روس کی جانب سے یہ سخت بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ یوکرین کو مزید فوجی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے 24 اگست کو یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر کیف کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ ایک دفاعی کمپنی یوکرین اور فرانس کی جانب سے یوکرین میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی اسمبلی لائنیں قائم کرنے کی کوششوں کے دوران برطانوی ساختہ میزائلوں میں استعمال ہونے والے بعض اجزا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کر سکتی ہے۔
اسی دوران روسی خفیہ ایجنسی ایس وی آر کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے تصدیق کی کہ انہوں نے رواں ہفتے ماسکو میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف سے ملاقات کی۔ ناریشکن نے ملاقات کو معمول کی نوعیت کی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں دونوں خفیہ اداروں کے دائرۂ کار سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی۔













