کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر 3 میں قائم ایک نجی اسپتال میں مبینہ طور پر خاتون کو زچگی کے آپریشن کے لیے لے جایا گیا اور آپریشن بھی کردیا گیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق آپریشن کے بعد اسپتال انتظامیہ نے مٹھائی بھی طلب کی تاہم جب بچے کے بارے میں پوچھا گیا تو مبینہ طور پر بتایا گیا کہ خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں۔
واقعے پر خاتون کے شوہر اور دیگر ورثا نے اسپتال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ شوہر نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آپریشن سے قبل حمل اور بچے کی موجودگی سے متعلق بتایا گیا تھا تاہم آپریشن کے بعد بچے کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا۔
واقعے نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں جبکہ اہلِ خانہ نے متعلقہ حکام سے فوری تحقیقات اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’محفوظ ترین جگہ بھی حفاظت نہ کرسکی’، پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات بھی سراپا احتجاج
سوشل میڈیا صارفین نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں نومولود کو فروخت تو نہیں کردیا گیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سحر خان نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’روز صبح اٹھتے ہی کوئی خیر کی خبر نہیں ملتی، پتا نہیں ہم جا کہاں رہے ہیں‘۔
دوسری جانب متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ ملک میں اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔














